ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے ماحولیاتی نتائج

جمعہ 6 مارچ 2026
author image

کامران ساقی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج کے مطابق ایران پر اب تک 5 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا جاچکا ہے، جبکہ فوجی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے بھی تقریباً 571 میزائل اور 1,391 ڈرون استعمال کیے جا چکے ہیں۔

ان فوجی کارروائیوں نے خطے کے ماحولیاتی نظام کو ایک مرتبہ پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف سیاسی یا فوجی نتائج تک محدود نہیں، بلکہ انسانی صحت، زراعت اور موسمیاتی توازن تک پھیل رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم ادارے کنفلکٹ اینڈ انوائرمنٹ آبزرویٹری کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی دنوں میں توانائی کے انفراسٹرکچر، تیل کے ذخائر اور فوجی تنصیبات پر حملوں سے فضا میں شدید آلودگی پھیلی۔

انڈیا کے ماحولیاتی ماہرانیل سعود کے مطابق جب تیل کی ریفائنریوں یا ذخائر میں آگ لگتی ہے تو کاربن ڈائی آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور باریک آلودہ ذرات فضا میں پھیل جاتے ہیں۔

تیل زمین اور سمندر میں پھیل کر پانی اور مٹی کو آلودہ کرتا ہے، جس سے دمہ، کینسر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ سمندری حیات، مچھلیاں اور مرجانی چٹانیں بھی متاثر ہوتی ہیں جبکہ آلودہ پانی زراعت اور خوراک کے معیار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

فضائی ہتھیار اور ایندھن کے اثرات

کیمیادان النافے کے مطابق  ایک جدید لڑاکا طیارہ، جیسے ایف–16 یا ایف–35، ایک گھنٹے کی پرواز میں تقریباً 3 ہزار سے 5 ہزار 6 سو کلوگرام تک جیٹ ایندھن استعمال کر سکتا ہے۔

اگر کسی بڑے فضائی آپریشن میں درجنوں جنگی طیارے مسلسل پروازیں کریں تو روزانہ ہزاروں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح جدید ڈرونز، مثلاً ایم کیو–9 ریپر، فی گھنٹہ تقریباً 3 سو سے 4 سو لیٹر ایوی ایشن ایندھن استعمال کرتے ہیں اور چونکہ یہ کئی گھنٹوں بلکہ بعض اوقات کئی دنوں تک فضاء میں نگرانی یا حملوں کے لیے موجود رہ سکتے ہیں اس لیے ان سے پیدا ہونے والا فضائی اخراج طویل عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔

میزائل اور راکٹ کا ماحولیاتی اثر

کیمیادان النافے کا کہنا ہے کہ میزائلوں کے معاملے میں بیلسٹک میزائل عموماً مائع یا ٹھوس راکٹ ایندھن استعمال کرتے ہیں اور ایک درمیانے فاصلے کے میزائل میں 10 سے 30 ٹن تک راکٹ فیول موجود ہو سکتا ہے، جو لانچ کے وقت بڑی مقدار میں گیسیں اور ذرات فضا میں چھوڑتا ہے۔

اسی طرح کروز میزائل عموماً جیٹ یا ٹربوفین انجن پر چلتے ہیں اور ایک میزائل میں تقریباً 5 سو سے 15 سو کلوگرام تک ایندھن استعمال ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ راکٹ اور آرٹلری گولوں میں بارودی مواد، امونیم نائٹریٹ اور دیگر کیمیکل شامل ہوتے ہیں، جو دھماکے کے بعد نائٹروجن آکسائیڈ اور بھاری دھاتی ذرات جیسی زہریلی آلودگی فضا میں پھیلاتے ہیں اور ماحول کے ساتھ ساتھ انسانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

زراعت پر اثرات

اسکول آف کمیونیکیشن اسٹڈیز پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر شفیق احمد کمبوہ کے مطابق جنگوں کے دوران بمباری اور فوجی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی زراعت کو شدید متاثر کرتی ہے۔ مسلسل بمباری سے زرعی زمین تباہ ہو جاتی ہے، مٹی میں بارودی مواد اور بھاری دھاتیں شامل ہو جاتی ہیں اور آبپاشی کے نظام متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً فصلوں کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور خوراک کی قلت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس سے مقامی معیشت اور غذائی تحفظ بھی متاثر ہوتا ہے۔

سمندری ماحولیاتی اثرات

گلف ریسرچ سینٹر کے تجزیے کے مطابق توانائی کے پیداواری مقامات پر حملوں سے سمندری ماحولیاتی نظام بھی خطرے میں آ گیا ہے۔ تیل کے ممکنہ اخراج اور صنعتی آلودگی کی وجہ سے سمندری حیات، مچھلیاں اور مرجانی چٹانیں متاثر ہو رہی ہیں۔ پانی میں موجود آلودگی زراعت اور انسانی استعمال کے لیے بھی خطرناک ہے، جس سے خطے کی غذائی حفاظت اور ماحولیاتی توازن مزید متاثر ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی کارکن زینب وحید کے مطابق افسوسناک امر یہ ہے کہ جنگوں کے ماحولیاتی اثرات کو اکثر ثانوی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ صحت، خوراک، پانی اور معیشت پر اس کے براہِ راست اور طویل المدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق جنگ کے بعد اگر تعمیرِ نو روایتی طریقوں سے کی گئی تو گرین ہاؤس گیسوں میں مزید اضافہ ہوگا، اس لیے پائیدار تعمیرِ نو کو ترجیح دینا ضروری ہے جس میں کم کاربن ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی اور ماحول دوست انفراسٹرکچر شامل ہو۔

زینب وحید کہتی ہیں کہ جنگ بندی کے فوراً بعد سائنسی بنیادوں پر جامع ماحولیاتی جائزہ لیا جانا چاہیے جس میں ہوا، پانی، مٹی اور سمندری وسائل کے نمونوں کی جانچ کے ذریعے آلودگی کے مراکز کی نشاندہی کی جائے اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

ان کے بقول زرعی ماہرین کی مدد سے زمین کی بحالی، پانی کی صفائی اور صحتِ عامہ کے تحفظ کو پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا جانا چاہیے، کیونکہ شفاف ڈیٹا، عالمی تعاون اور ماحولیاتی ذمہ داری کے بغیر اس طویل المدتی نقصان کا ازالہ ممکن نہیں۔

گرین ہاؤس گیسیں اور گلوبل وارمنگ

کلائمیٹولوجسٹ اور ماحولیاتی ماہر ڈاکٹر یونس زاہد کے مطابق جنگ کے دوران میزائل اور طیاروں کی پرواز، انفراسٹرکچر کو لگنے والی آگ اور تیل کے ذخائر کے نقصان سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں گلوبل وارمنگ کو نمایاں طور پر بڑھاتی ہیں۔ یہ گیسیں سورج کی توانائی کو واپس فضا میں جانے سے روکتی ہیں، جس سے خطے میں درجہ حرارت بڑھتا ہے اور طویل المدتی ماحولیاتی نقصان ہوتا ہے۔

ڈاکٹر یونس زاہد کا مزید کہنا ہے کہ گرین ہاؤس گیسیں آہستہ آہستہ اور مستقل طور پر ماحولیاتی نظام، رہائش گاہیں، نباتات اور خوراک کے ذرائع کو متاثر کرتی ہیں۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں یہ اثرات شدید ہیں کیونکہ یہاں کی نباتات، فصلیں اور قدرتی نظام مکمل طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔ اس نقصان کو فوری طور پر روکا نہیں جا سکتا، اس لیے ایڈاپٹیشن اور مٹیگیشن کے اقدامات ضروری ہیں۔ اس میں نئی اور ماحول دوست فصلوں کا انتخاب، کم پانی والی فصلیں، واٹر ریزسٹنس والی فصلیں اور جدید زراعتی ٹیکنالوجی شامل ہیں تاکہ مقامی ماحولیاتی نظام اور خوراک کی فراہمی محفوظ رہے۔

جنگ کے ماحولیاتی اثرات کوئی نئی بات نہیں

یاد رہے کہ جنگوں کے ماحولیاتی اثرات کوئی نئی بات نہیں۔ خلیجی جنگ 1991 کے دوران کویت میں تیل کے کنوؤں کو آگ لگنے سے فضا اور سمندر مہینوں تک زہریلے دھوئیں اور آلودگی کی لپیٹ میں رہے تھے، اور ان کے اثرات برسوں تک محسوس کیے گئے۔

ماہرین کے مطابق اگر نسبتاً محدود جغرافیائی حدود میں ہونے والی اس جنگ کے اثرات اتنے شدید تھے، تو ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ تنازع کے ماحولیاتی اور انسانی نقصانات کہیں زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

جنگ کا سب سے خاموش مگر طویل المدتی متاثرہ فریق ماحول ہوتا ہے۔ بمباری، آگ اور صنعتی تنصیبات کی تباہی سے پیدا ہونے والی آلودگی فوری طور پر فضا، پانی اور زمین کو متاثر کرتی ہے، لیکن اس کے اثرات برسوں بلکہ دہائیوں تک انسانی صحت، زراعت اور غذائی تحفظ پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر جنگ کے بعد ماحولیاتی نقصانات کا بروقت اور سائنسی جائزہ نہ لیا گیا تو یہ آلودگی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل ماحولیاتی بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے