ریجنل سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کنوینر کمیٹی نے سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں پیٹرولیم سپلائی کی صورتحال اور ہنگامی منصوبہ بندی سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں پیٹرولیم سپلائی سے متعلق ہنگامی اجلاس آج ہوگا
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں کنوینر سینیٹر منظور احمد کاکڑ کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پیٹرولیم سیکٹر کی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر رانا محمود الحسن اور سینیٹر امیر ولی الدین چشتی نے زوم کے ذریعے ورچوئلی شرکت کی۔
پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو پیٹرولیم کمپنیوں کے بورڈ ممبران کی تقرری کے موجودہ قانونی و ریگولیٹری طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ بورڈز آزاد (انڈیپنڈنٹ) اور حکومتی ممبران پر مشتمل ہوتے ہیں جن کی مدت 3 سال ہوتی ہے اور تقرریاں مسابقتی عمل کے ذریعے کی جاتی ہیں۔ وزارت نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ تقرریاں متعلقہ شعبے میں تجربہ اور مہارت کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔
تاہم کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے بورڈ کے بعض ارکان کی مہارت کے حوالے سے سوالات اٹھائے۔ کنوینر کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ پیٹرولیم ڈویژن کے تحت قائم تمام بورڈز کے ارکان کے نام، پیشہ ورانہ مہارت، مدتِ ملازمت اور دیگر متعلقہ معیار کی تفصیلات پر مشتمل جامع بریفنگ پیش کی جائے۔
کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کا بورڈ طویل عرصے سے بار بار توسیع کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پارکو (PARCO) کی حیثیت بطور اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز (SOE) ابھی تک واضح نہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اس معاملے پر آئندہ پیشرفت کے لیے اٹارنی جنرل آفس سے قانونی رائے طلب کی گئی ہے۔
حکومتی بورڈ ممبران کے حوالے سے بریفنگ کے دوران کمیٹی ارکان نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی پیٹرولیم کمپنیوں کے بورڈز میں شمولیت کس بنیاد پر کی گئی ہے۔ کنوینر کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ پارکو کی قانونی حیثیت کا معاملہ جلد از جلد حل کیا جائے اور پی پی ایل کے بورڈ کی تشکیل بار بار توسیع دینے کے بجائے قانون اور پالیسی کے مطابق مکمل کی جائے۔
مزید پڑھیں: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واضح کردیا
کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کو یقین دلایا کہ پیٹرولیم سیکٹر کے بورڈز کی کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے کمیٹی مکمل تعاون کرے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی سفارش کی کہ پارلیمنٹیرینز کو بھی بورڈ ممبران میں شامل کیا جائے تاکہ پارلیمانی نگرانی اور احتساب کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔














