ہم احتجاج میں اپنے ملک کو نقصان کیوں پہنچاتے ہیں؟

جمعہ 6 مارچ 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کوئی30، 35 سال پہلے کی بات ہے، کالج کا طالب علم تھا۔ ملک میں کسی واقعے پر احتجاج ہوا، شاید کسی کمپنی نے کوئی ایسا لوگو بنا دیا جس سے اسلامی شعار کی توہین کا شائبہ ہوتا تھا یا کچھ اور تھا۔ مجھے یہ یاد ہے کہ پورے کالج کے طلبہ نے اکٹھے ہو کر احتجاج کیا۔ سڑکوں پر نکل آئے، لمبا جلوس نکالا اور راستے میں توڑ پھوڑ بھی کی، غریب ریڑھی والوں کی شامت آئی، دکانوں اور چلتی ٹریفک بند کرا دی۔ ان دنوں زیادہ سمجھ تو نہیں تھی، مگر یہ اندازہ ہوا کہ جو کچھ بھی ہم کر رہے ہیں، ٹھیک نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

اپنے ایک کلاس فیلو سے پوچھا جو تب اسٹوڈنٹ لیڈر بن کر لیڈ کر رہے تھے، ان سے پوچھا کہ ہم احتجاج کر کے اپنی بات کہیں، یہ توڑ پھوڑ اور شہر کو بند کرانے کی کیا تک ہے؟ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولا، یہ نہ کریں تو خالی خولی احتجاج کا کیا فائدہ؟ اس میں کیا مزا آئے گا؟ میں سوچتا رہ گیا کہ احتجاج کرنے میں مزا اور تھرل لینے کی کیا تک ہے؟

اسٹوڈنٹ ایج سے نکل آئے، صحافت اختیار کی اور اگرچہ میرا بنیادی کام میگزین یا کالم نگاری تھا، رپورٹنگ کی ذمہ داری نہیں تھی، مگر بہت بار جلسے جلوسوں کو اپنے طور پر کور کیا، مختلف نوعیت کے احتجاج کو غور سے دیکھا۔ یہ بات مجھے سمجھ آئی کہ احتجاج کرنے سے زیادہ ہم لوگ اپنی فرسٹریشن، اپنا غصہ اور اپنی تلخیاں باہر نکالتے ہیں۔ اپنا کوئی دبا ہوا غصہ اور جھنجھلاہٹ سماج پر اس توڑ پھوڑ کی صورت میں انڈیل دیتے ہیں۔

احتجاج سیاسی ہو یا مذہبی نوعیت کا، اسے ہم لوگ پرتشدد بنا ہی دیتے ہیں۔ ایسے ہر احتجاج میں ریاستی املاک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ مذہبی احتجاج میں زیادہ شدت آ جاتی ہے کہ مظاہرین شاید سمجھتے ہیں کہ اب انہیں توڑ پھوڑ کے ساتھ سرکاری دفاتر، گاڑیاں وغیرہ نذر آتش کرنے کا حق بھی مل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے

مجھے یاد ہے کہ فرانس کے خلاف احتجاج میں ایک کالعدم مذہبی سیاسی تنظیم نے، جس کے خلاف پچھلے سال بڑا کریک ڈاؤن بھی ہوا، اس نے پورا لاہور شہر بند کر دیا۔ میں اخبار کے دفتر میں تھا، رات نو دس بجے باہر نکلا تو معلوم ہوا کہ ہر چوک پر تنظیم کے لڑکے ڈنڈے سوٹے لیے کھڑے ہیں اور کسی کے گزرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ وہ لونڈے لپاڑے تھے جنہیں شاید اپنے گھر میں دوسری بار مانگنے پر سالن بھی نہ دیا جاتا ہو، اس روز مگر ان کی رعونت، طاقت اور تکبر کی انتہا نہیں تھی۔

میں نے خود اپنی آنکھوں سے خواتین اور بچوں سے لدے چنگچی رکشے رائے ونڈ روڈ کے بھوبتیاں چوک پر رکے دیکھے۔ رائے ونڈ پنڈ یا شہر سے لاہور خریداری یا کسی کام کے لیے آئی خواتین یا فیملیز تک کو یہ واپس جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ معلوم نہیں ان بے چاروں نے رات کیسے اور کہاں گزاری اور کیا ہوا۔ میں نے بڑی کوشش کی مگر ہر راستہ بند تھا۔

اتفاق سے ہمارے ایک نوجوان کولیگ نے قریب ہی فلیٹ کرائے پر لے رکھا تھا، ان کی اہلیہ لاہور نہیں تھیں۔ وہ بے چارہ آ کر مجھے اپنی بائیک پر بٹھا کر گھر لے گیا، رات وہیں گزاری۔ شاید زندگی کا پہلا موقع تھا کہ ایسے کسی موقع پر اس احتجاج کی وجہ سے گھر تک نہ پہنچ پایا۔ میری طرح بے شمار لوگ تنگ ہوئے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس تنظیم کے خلاف پچھلے سال کریک ڈاؤن ہوا تو کسی نے ان کے حق میں آواز بلند نہ کی۔

یہ بھی پڑھیں: پاک افغان تنازع: بنیادی نکات پر یکسو ہونا پڑے گا

ابھی امریکہ، اسرائیل نے حملہ کر کے رہبرِ ایرانی انقلاب سید علی خامنہ ای کو شہید کیا تو ایک خوفناک نوعیت کا پرتشدد اور طوفانی ٹائپ احتجاج پاکستان کے کئی شہروں میں ہوا۔ پرغضب نوجوانوں نے کراچی کے امریکی قونصلیٹ کو جلا دیا، اسلام آباد میں بڑے ہنگامے ہوئے، کئی اور شہروں میں بھی جبکہ گلگت بلتستان میں تو خیر حد ہی ہوگئی۔ وہاں بہت سی سرکاری املاک نذر آتش کر دی گئیں۔

 اقوام متحدہ کے دفاتر، این جی اوز آفسز، اسکول، سرکاری دفاتر، بہت سی گاڑیاں، موٹرسائیکل وغیرہ۔ کراچی میں تو امریکی قونصلیٹ پر حملے میں کئی جانیں بھی گئیں، دیگر جگہوں پر بھی ہلاکتیں ہوئیں۔ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون تھا؟ صرف وہی لوگ جنہوں نے یہ احتجاج منظم کیے اور واٹس ایپ گروپوں کے ذریعے انگیخت کی، لوگوں کو اکسایا، بھڑکایا اور ناپختہ ذہنوں والے پرجوش نوجوان مروا دیے۔

میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ایسے احتجاج میں کسی سیاسی، مذہبی لیڈر کو نشانہ بنتے نہیں دیکھا۔ کیوں؟ کبھی آپ نے اس پر غور کیا ہے؟ جتنا بھی بڑا احتجاج ہو، ہمیشہ مرتے کارکن ہی ہیں۔ لیڈر زیادہ سے زیادہ کبھی ہلکا پھلکا زخمی ہو گیا، ورنہ زیادہ سے زیادہ وہ گرفتار ہوگا اور پھر ایک دو دنوں بعد انگلیوں سے وی فار وکٹری کا نشان بناتے ہوئے ضمانت پر رہا ہوگا، ایک ہیرو کے طور پر۔ غریب کارکن بے چارہ رُل گیا، اس کی فیملی تباہ ہوگئی، یتیم بچے، بیوہ بقیہ زندگی کسمپرسی میں گزارے گی۔ بہت بار تو وہ نوجوان اپنے گھر کا واحد کفیل ہوتا ہے۔ مذہبی ہیجان اور جوش پیدا کر کے اسے قربان کرا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کب جان سے جائیں گی یہ جذباتی وابستگیاں

سوچنے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ، اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، رہبر انقلاب شہید ہوئے، احتجاج آپ پاکستان میں کر رہے ہیں؟ یہاں پر توڑ پھوڑ کر رہے، اپنے ملک کی سرکاری املاک جلا رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ دنیا میں کہیں اور ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ میں بہت سے واٹس ایپ گروپوں کا حصہ ہوں، ان میں سے بعض مذہبی بھی ہیں، ایسے بعض گروپوں میں اس احتجاج پر اکسایا جاتا رہا، جذباتی نعرے چلتے رہے۔

کئی لوگوں نے یہ بات کی کہ ہم رہبر کی تقلید کرتے ہیں، ہم نے ان کا بدلہ لے لیا۔ یعنی امریکی قونصلیٹ میں آگ لگا کر، اقوام متحدہ کا دفتر جلا کر ایران پر حملہ آور سے بدلہ لے لیا، مگر کیسے؟ کیا ان لوگوں کو علم نہیں کہ جو بھی نقصان ہوگا، وہ حکومت پاکستان نے بھرنا ہے۔ کسی بھی ملک میں فارن ایمبیسی کو مظاہرین جلا دیں یا نقصان پہنچائیں تو اسے ٹھیک کرا کے دینے کا تمام خرچ وہی میزبان ملک ہی اٹھاتا ہے۔

اسی طرح کیا ان مذہبی لیڈروں کو علم نہیں کہ کسی بھی ملک کا سفارت خانہ یا قونصلیت اس ملک کی سرزمین جیسی حیثیت رکھتا ہے، ان پر مقامی قوانین اس طرح لاگو نہیں ہوتے اور کسی حملے کی صورت میں سفارت خانے کے گارڈز گولی چلانے کا پورا حق رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد احتجاج: تحریک انصاف کی 4 بڑی غلطیاں

مجھے ایران سے پوری ہمدردی ہے، میری دلی خواہش ہے کہ ایران اس جنگ میں سرخرو اور کامیاب ہو، حملہ آوروں کو پسپا ہونا پڑے، منہ کی کھائیں۔ میرے دل میں ایران کے لیے سافٹ کارنر ہے۔ اس کے باوجود کیا یہ حقیقت نہیں کہ ایران نے بطور ریاست ہمیشہ اپنے مفادات کا خیال رکھا ہے۔

میں نے فیس بک پر یہ کمنٹ کیا کہ ایران نے کبھی کشمیر کے حوالے سے پرزور آواز نہیں اٹھائی، اس پر کئی دوستوں نے ایک آدھ ایرانی بیان ڈھونڈ ڈھانڈ کر نکالا اور مجھے بھیجا۔ میں اس پر صرف مسکرا دیا کہ صرف رسمی بیان کی بات نہیں، حقیقی سپورٹ کا سوال اٹھایا تھا۔

کہنا صرف یہ ہے کہ ہمیں اپنی ریاست کے مفادات سامنے رکھنے چاہئیں۔ ہم پاکستان کے شہری ہیں، ایران کے نہیں۔ مذہبی، مسلکی، نظریاتی ہمدردی ایک الگ معاملہ ہے، مگر ریاست بہرحال ہماری پاکستان ہی ہے۔

اس لیے میرا سوال ہمارے ان پاکستانی بھائیوں سے یہی ہے کہ آخر پاکستان میں رہتے ہوئے، ہر بیرونی واقعے پر غصہ پاکستانی اداروں، پاکستانی محکموں اور سرکاری املاک پر کیوں نکالا جاتا ہے؟ ہمیشہ اپنے ہی گھر کو کیوں جلایا جاتا ہے؟ ایسا کون کرتا ہے یار؟

صاف بات یہ ہے کہ پاکستانی شہریوں کی پہلی ذمہ داری پاکستانی قوانین کا احترام کرنا ہے۔ اپنے ملک کے امن، استحکام اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔ بیرونی واقعات کو بنیاد بنا کر اپنے ہی ملک میں گڑبڑ پیدا کرنا، لوگوں کو اشتعال دلانا سخت نقصان دہ اور غلط ہے۔ اب بہت ہو چکا، یہ سب حرکتیں ہمیں بند کرنا ہوں گی۔ ایک ذمہ دار، میچور قوم کے انداز میں بی ہیو کرنا سیکھنا ہوگا۔ دوسری کوئی آپشن موجود نہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی آج شیڈول کے مطابق ہوگی

’میں رشتہ بچانے کے لیے خاموش رہی‘، رجب بٹ کے طلاق نوٹس پر ایمان فاطمہ بول اٹھیں

‘ایک لیٹر تیل بھی جانے نہیں دیں گے،’ پاسداران انقلاب کی دھمکی پر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید حملوں کا انتباہ

معتکفین کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کی تربیت، مسجدِ نبویؐ میں خصوصی اقدام

سعودی عرب نے شَیبہ آئل فیلڈ کی جانب بڑھنے والے 9 ڈرونز تباہ کردیے

ویڈیو

لاہور میں ملک کی پہلی سمارٹ روڈ روٹ 47 کی خصوصیات کیا ہیں؟

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟