عالمی تجارت اور پیٹرولیم کی ترسیل کے لیے 6 اہم ترین بحری راستے کونسے ہیں؟

ہفتہ 7 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا کی معیشت بڑی حد تک چند اہم بحری راستوں پر منحصر ہے جو عالمی تجارت، تیل و گیس کی ترسیل اور خام مال کی نقل و حمل کو ممکن بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان میں سے کسی ایک اہم سمندری گزرگاہ میں بھی خلل پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات عالمی توانائی کی قیمتوں، مہنگائی اور سپلائی چین پر پڑتے ہیں۔

آبنائے ہرمز: عالمی تیل کی اہم ترین گزرگاہ

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے جس کی یومیہ مالیت تقریباً 1.7 ارب ڈالر بنتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔

آبنائے ملاکا: ایشیا کی توانائی کی شاہراہ

ملائیشیا اور انڈونیشیا کے درمیان واقع آبنائے ملاکا بحرِ ہند کو بحرالکاہل سے ملاتی ہے۔ یہ ایشیا کی معیشتوں کے لیے نہایت اہم راستہ ہے جہاں سے عالمی سمندری تیل تجارت کا تقریباً 29 فیصد گزرتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ ایشیائی معیشتوں اور عالمی سپلائی چین کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔

نہر سویز: یورپ اور ایشیا کے درمیان مختصر راستہ

مصر میں واقع نہر سویز یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو مختصر بناتی ہے۔ عالمی سمندری تیل کی تقریباً 10 فیصد ترسیل اور مائع قدرتی گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ 2021 میں ایک بڑے کارگو جہاز کے پھنسنے سے اس نہر کی بندش نے عالمی تجارت کو شدید متاثر کیا تھا۔

نہر پاناما: امریکا کے لیے اہم تجارتی راستہ

نہر پاناما بحرِ اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اور خاص طور پر امریکا کے مشرقی اور مغربی ساحلوں کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہاں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں جہازوں کو جنوبی امریکا کے گرد طویل راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے جس سے اخراجات اور وقت دونوں بڑھ جاتے ہیں۔

آبنائے باب المندب: بحیرہ احمر کا دروازہ

یمن کے قریب واقع آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور نہر سویز کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس علاقے میں سکیورٹی خدشات اور حملوں کے باعث ماضی میں جہاز رانی متاثر ہوتی رہی ہے۔

آبنائے باسفورس: بحیرہ اسود سے توانائی کی ترسیل

ترکی میں واقع آبنائے باسفورس دنیا کی تنگ ترین بین الاقوامی گزرگاہوں میں سے ایک ہے جو بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔ روس، قازقستان اور آذربائیجان سے آنے والے تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔

آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی

تازہ معلومات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تجارتی جہاز رانی تقریباً رک گئی ہے۔ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کے مطابق عام طور پر روزانہ تقریباً 138 جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں، تاہم حالیہ 24 گھنٹوں میں صرف دو جہاز گزرے اور ان میں سے کوئی بھی آئل ٹینکر نہیں تھا۔

اگرچہ باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز کو بند قرار نہیں دیا گیا، تاہم سکیورٹی خدشات اور انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی سپلائی چین میں بڑے خلل کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ

خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیل پھٹنے کا خطرہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

مشرق وسطیٰ جنگ: خلیج فارس میں رکے جہاز پر کئی پاکستانی پھنس گئے، کراچی کا رہائشی بھی شامل

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان