وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی معاشی صورتحال کے جائزے کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں عالمی سطح پر حالیہ کشیدگی اور اس کے خطے پر پڑنے والے معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھیں: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا پاک بحریہ کے افسروں اور جوانوں کو خراجِ تحسین
وزیرِ اعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ 48 گھنٹوں کے اندر سادگی اور بچت پر مبنی ایسا قابل عمل لائحہ عمل پیش کیا جائے جو عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالے اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ عالمی تناظر میں ملکی معاشی صورتحال پر جائزہ اجلاس۔
جو پٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی اسے فورا بند کیا جائے اور لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔ وزیراعظم @Aadiiroy2 @AmirSaeedAbbasi pic.twitter.com/ofUebpj4bS— Media Talk (@mediatalk922) March 7, 2026
اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی معاشی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی، جس کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کمی پیدا نہیں ہوئی۔ تاہم گزشتہ روز عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر صارفین پر بوجھ کم سے کم منتقل کرنے کے لیے کمیٹی کی تجاویز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی جو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی، اس کا فوری لائسنس منسوخ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
مزید پڑھیں: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ایک روزہ دورے پر کوئٹہ آمد
مزید ہدایت کی گئی کہ وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور بلاتعطل فراہمی کے لیے منصوبہ بندی اور لائحہ عمل تیار کریں۔ اجلاس میں کمیٹی کو مزید فعال رہ کر عوام کے لیے سہل اور مؤثر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔














