وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج کردیا گیا
احسن اقبال نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور ایران کی حالیہ صورتحال نے عالمی معیشت کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش نے تیل کی عالمی سپلائی کو متاثر کیا ہے اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیرِاعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں…— Ahsan Iqbal (@betterpakistan) March 7, 2026
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز وزیرِاعظم نے عالمی قیمتوں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کو یکسر مسترد کر دیا اور عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالنے کی ہدایت کی۔ بلاشبہ قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے بوجھ کا باعث بنتا ہے اور حکومت ہمیشہ کوشش کرتی ہے کہ اس بوجھ کو کم سے کم رکھا جائے، تاہم موجودہ حالات میں یہ بھی حقیقت ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے اثرات سے مکمل طور پر الگ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بڑا حصہ تیل اور توانائی کی صورت میں درآمد کرتا ہے۔ جب عالمی سطح پر سپلائی متاثر ہوتی ہے اور قیمتیں بڑھتی ہیں تو درآمدی لاگت میں اضافہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اگر اس اضافی لاگت کو مکمل طور پر حکومتی خزانے پر ڈال دیا جائے تو اس کا مطلب مالیاتی خسارے میں اضافہ، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور معاشی استحکام پر مزید دباؤ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشکل حالات میں بعض فیصلے وقتی طور پر سخت ضرور ہوتے ہیں مگر طویل المدت استحکام کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ایک متوازن حکمت عملی اختیار کی جائے جس میں کمزور طبقات کو ممکنہ حد تک تحفظ فراہم کیا جائے، توانائی کے متبادل ذرائع کو تیزی سے فروغ دیا جائے اور معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ عالمی جھٹکوں کو بہتر طور پر برداشت کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں شہریوں کو پیٹرول نہ دینے پر 7 پیٹرول پمپس سیل
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کا تقاضا کرتے ہیں اور دانشمندانہ پالیسی یہی ہے کہ وقتی مشکلات کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے اقدامات کیے جائیں جو معیشت کو بڑے بحران سے محفوظ رکھ سکیں۔














