پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ کن شعبوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا؟

اتوار 8 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے گزشتہ روز پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ریکارڈ 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا یے۔ جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ ہے۔ خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری تنازع، جس نے عالمی تیل کی قیمتوں کو ہوشربا طور پر بڑھا دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ٹیلی ویژن پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’مجبوری کا فیصلہ‘ ہے، کیونکہ ایران میں جاری تنازع نے پورے خطے میں توانائی کی سپلائی کو غیر یقینی بنا دیا ہے اور پاکستان جیسے درآمد پر انحصار کرنے والے ملک کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد اہم مشاورت، وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس اضافے سے مہنگائی کی شرح میں مزید تیزی آئے گی، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوگا، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔

پاکستان میں پیٹرول کی قیمت بڑھنے کے اثرات

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سب سے پہلے نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا اثر مختلف شعبوں پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے کی وجہ سے اشیائے ضروریہ، خاص طور پر خوراک اور روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ان کے مطابق زراعت، ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ جیسے شعبے اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کا بڑا انحصار ایندھن پر ہوتا ہے۔ نتیجتاً پیداوار اور ترسیل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں جو بالآخر صارفین کو زیادہ قیمتوں کی صورت میں ادا کرنا پڑتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گھریلو سطح پر پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں لوگوں کی قوتِ خرید کو کم کر دیتی ہیں کیونکہ آمدنی کا بڑا حصہ ایندھن اور ٹرانسپورٹ پر خرچ ہونے لگتا ہے۔ جبکہ مجموعی معاشی سطح پر یہ اضافہ پاکستان کے درآمدی بل میں بھی اضافہ کرتا ہے اور بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھاتا ہے، کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے بڑی حد تک درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔

عالمی مارکیٹ اور سپلائی چین پر اثرات

معاشی ماہر راجہ کامران کے مطابق، یہ بحران صرف قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سپلائی چین کو جام کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلف اور مڈل ایسٹ (جو پاکستان کے سب سے بڑے تیل سپلائرز ہیں) اب مکمل طور پر متاثر ہو چکے ہیں، جہاں شپنگ لائنز حرکت میں نہیں آ رہی ہیں، فریٹ ریٹس آسمان چھو رہے ہیں، اور کنٹینرز کی لاگت میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی سے دبئی کا کنٹینر جو پہلے 10,050 ڈالر تھا اب 20,000 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت کی افواہیں، ترجمان اوگرا نے وضاحت کردی

راجہ کامران کا کہنا ہے کہ اس ڈسٹربنس سے لوکل پرائسز پر شدید دباؤ پڑے گا، مہنگائی میں تیزی آئے گی، ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور صنعتی لاگت بڑھے گی۔ تاہم، یہ بحران ایک موقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔ دنیا اب نئی انرجی مارکیٹس اور سپلائی روٹس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سینٹرل ایشیا کی مارکیٹس (جیسے ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-بھارت گیس پائپ لائن، TAPI) میں نئی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے، جہاں پاکستان گیس اور ایل این جی کو دنیا تک پہنچانے کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہیں لینڈ لاکڈ سینٹرل ایشین ممالک کے لیے انرجی ہب بننے کا موقع حاصل کر سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روسی تیل اور دیگر متبادل ذرائع (جیسے افریقی اور امریکی تیل) کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے، اور پاکستان کو اپنی ریفائنری صلاحیت (جیسے حالیہ امریکی ریفائنری خریداری اور ٹیسٹنگ) کو استعمال کر کے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ سعودی عرب، قطر اور کویت سے درآمدات متاثر ہوئی ہیں، لیکن یہ بحران نئی سرمایہ کاریاں اور متبادل روٹس (جیسے ریڈ سی یا دیگر) کو جنم دے سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے ممکنہ اقدامات اور مستقبل

ایک سوال کے جواب میں راجہ کامران کا کہنا تھا کہ اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو پاکستان کو ایندھن کی قلت، ہفتہ وار پرائس ریویو اور سخت اقدامات (جیسے ورک فرام ہوم) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن طویل مدت میں پاکستان انرجی ٹریڈ کا کلیدی کھلاڑی بن سکتا ہے۔ یہ بحران پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے ایک بڑا امتحان ہے، جہاں ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے تو دوسری طرف نئی مواقع بھی چھپے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج کردیا گیا

معاشی ماہر ڈاکٹر انور شاہ کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ صرف عوامی اخراجات ہی نہیں بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو کاروباری لاگت بڑھنے کے باعث مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جس سے معاشی نمو پر بھی اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رمضان اور عید جیسے مواقع پر عام طور پر معیشت میں سرگرمی بڑھ جاتی ہے، بازاروں میں خرید و فروخت زیادہ ہوتی ہے اور کاروباری لین دین میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم ایندھن کی بلند قیمتیں اس معاشی سرگرمی کو محدود کر سکتی ہیں کیونکہ کاروباری اداروں کو بڑھتی ہوئی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ڈاکٹر انور شاہ کے مطابق اگر عالمی سطح پر کشیدگی اور تیل کی قیمتوں کا دباؤ برقرار رہا تو پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے، اور اس کے اثرات مالیاتی منصوبہ بندی اور ترقیاتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان