سندھ حکومت نے صوبے میں ہر گاڑی کے لیے تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار دے دیا ہے، جس کے بغیر نہ گاڑی رجسٹر ہوگی اور نہ ہی ٹوکن ٹیکس جمع کیا جا سکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس قانون کو روڈ سیفٹی اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تھرڈ پارٹی انشورنس حادثات میں متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کے لیے بڑا سہارا ثابت ہوگا اور قانون کے تحت متاثر شہری کو فوری مالی ریلیف ملے گا۔
یہ بھی پڑھیے: موبی لنک بینک اور سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ کے درمیان معاہدہ، سندھ میں ایس ایم ایز کو ایک ارب روپے تک فنانسنگ
سندھ حکومت نے گاڑیوں کے لیے نو فالٹ معاوضہ سسٹم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت حادثات میں جاں بحق افراد کے ورثا کو 7 لاکھ روپے اور معذوری کی صورت میں 5 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔ پاکستان کا پہلا جدید ڈیجیٹل انشورنس مانیٹرنگ سسٹم بھی سندھ میں فعال ہو گیا ہے، جس سے جعلی انشورنس کے راستے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم کے بعد نئی دفعہ کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک حادثات کے متاثرین کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے محکمہ ایکسائز کو ہدایت کی ہے کہ قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے، اور گاڑی کی منتقلی کے لیے بھی ویلڈ انشورنس پالیسی لازمی ہوگی۔
عوام کو نئے قانون کے فوائد سے آگاہ کرنے کے لیے خصوصی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی، تاکہ ٹیکس کلیکشن کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بہتر سروسز فراہم کی جا سکیں۔














