پاکستان کے صفِ اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک موبی لنک بینک نے حکومتِ سندھ کے ذیلی ادارے سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (ایس ای ڈی ایف) کے ساتھ 5 سالہ شراکت داری کا معاہدہ کر لیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو منظم انداز سے فنانس کی بہتر اور ترجیحی رسائی فراہم کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت موبی لنک بینک کے ذریعے ایک ارب روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ایس ای ڈی ایف مارک اپ سبسڈی دے کر سرمایہ کی لاگت کم کرے گا تاکہ کاروباری افراد آسان شرائط پر سرمایہ حاصل کر سکیں اور صوبے بھر میں پائیدار معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔
کن شعبوں کو فائدہ ہوگا؟
اس پروگرام سے ان شعبوں کو خصوصی طور پر تقویت ملے گی جو اب تک مالی سہولیات سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے، جن میں زرعی ویلیو چینز، لائیو اسٹاک اور ڈیری، پولٹری اور فشریز، کولڈ اسٹوریج اور لاجسٹکس، قابلِ تجدید و متبادل توانائی، خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار، کان کنی اور معدنیات کی پروسیسنگ اور جدت پر مبنی آئی ٹی منصوبے شامل ہیں
فنانسنگ کی شرائط
معاہدے کے مطابق قلیل، درمیانی اور طویل مدتی فنانسنگ دستیاب ہوگی۔ ایس ای ڈی ایف ابتدائی تین سال تک ایک سالہ کائبور (KIBOR) یا 10 فیصد (جو بھی کم ہو) کے برابر مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گا۔ کارکردگی کی بنیاد پر اس سہولت میں توسیع کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
ہر منصوبے کے لیے زیادہ سے زیادہ 50 لاکھ روپے تک فنانسنگ دستیاب ہوگی، جبکہ جدت پر مبنی منصوبوں کے لیے توسیع کی سہولت بھی دی جا سکے گی۔
حکام کا مؤقف
موبی لنک بینک کے صدر و سی ای او حارث محمود چوہدری نے کہا کہ چھوٹے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ روزگار پیدا کرتے اور مقامی معیشت کو متحرک رکھتے ہیں، تاہم انہیں سستی فنانسنگ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
ان کے مطابق ایس ای ڈی ایف کے ساتھ یہ اشتراک مالی جدت اور پالیسی معاونت کے ذریعے ان شعبوں تک سرمایہ پہنچانے میں مدد دے گا جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
حکومتِ سندھ کے محکمہ سرمایہ کاری کے سیکریٹری زبیر احمد چنہ نے کہا کہ حکومت صوبے میں پیداواری شعبوں کی معاونت کے لیے مضبوط مالیاتی نظام کے قیام کے لیے پرعزم ہے، اور اس نوعیت کی سرکاری و نجی شراکت داری صنعتی ترقی اور ویلیو ایڈڈ شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔
طویل المدتی اثرات
یہ شراکت داری سرکاری سبسڈی اور تجارتی فنانسنگ کو یکجا کر کے سندھ میں طویل المدتی معاشی استحکام کو فروغ دے گی۔ بالخصوص دیہی علاقوں اور خواتین کی زیرِ قیادت کاروبار کو کم لاگت قرض اور باضابطہ کریڈٹ تک بہتر رسائی ملے گی، جس سے پیداوار میں اضافہ، گرین ٹیکنالوجی کا استعمال اور کاروباری توسیع ممکن ہو سکے گی۔
حکام کے مطابق مستقبل میں اس ماڈل کو دیگر صوبوں تک بھی توسیع دی جا سکتی ہے۔














