وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ملاقات کی۔
ملاقات میں ممکنہ توانائی سپلائی بحران اور اس کے عوام اور قیمتوں پر اثرات کے حوالے سے صوبائی حکومت کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
مزید پڑھیں: بڑھتی مہنگائی اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، پی ٹی آئی نے حکومت سے بڑے مطالبات کردیے
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہاکہ خیبر پختونخوا حکومت ایسے اقدامات کی حمایت نہیں کرے گی جن کے براہِ راست اثرات عوام پر پڑیں۔
توانائی کا ممکنہ بحران، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی پشاور آمد اور وزیر اعلی محمد سہیل آفریدی سے ملاقات
وفاقی حکومت نے ممکنہ سپلائی بحران اور قیمتوں پر اثرات کے حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کو بریفنگ دی
خیبرپختونخوا حکومت ایسے اقدامات… pic.twitter.com/zqcfNOP5gF
— Muhammad Faheem (@MeFaheem) March 7, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی فضول خرچیاں عوام پر بوجھ ڈالنے کے مترادف ہیں اور یہ حکمرانی کا درست طریقہ نہیں ہے۔
بعد ازاں پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوام پر ایٹم بم کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت اس فیصلے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ خیبرپختونخوا عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے والی کسی بھی پالیسی کا ساتھ نہیں دے گی اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فضول خرچیاں کم کر کے عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
سہیل آفریدی نے اعلان کیاکہ صوبے میں موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت 14 سے 16 لاکھ موٹرسائیکل رجسٹرڈ ہیں۔ ساتھ ہی بی آر ٹی کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو مہنگائی سے براہِ راست تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عالمی یوم خواتین کے موقع پر وزیر اعلیٰ نے بی آر ٹی میں خواتین کے لیے پنک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔
انہوں نے کہاکہ گندم کی کٹائی کے دوران کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج تیار کیا جا رہا ہے، جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
سہیل آفریدی نے پٹرولیم قیمتوں میں 55 روپے کے اضافے کو عوام پر ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب قیمتوں میں 12 روپے اضافہ ہوتا تھا تو مخالف جماعتیں اسے پیٹرول بم قرار دیتیں، آج 55 روپے کے اضافے پر کوئی مداخلت نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق 5300 ارب روپے کی کرپشن کے انکشافات کے بعد عوام پر بوجھ ڈالنا غیر معقول ہے۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزرا خزانہ اور پیٹرولیم کی صوبوں سے مشاورت کو مثبت اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ عالمی حالات مزید خراب ہوئے تو پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کا خدشہ موجود ہے۔ اس کے پیش نظر خیبرپختونخوا حکومت وفاق کو تحریری تجاویز بھی دے گی۔
انہوں نے عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا، نئی گاڑیاں نہیں خریدیں اور سرکاری خرچوں میں کمی کے لیے غیر ملکی سرکاری دوروں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر حادثے کے باوجود عوامی ریلیف کو ترجیح دیتے ہوئے نیا ہیلی کاپٹر نہیں خریدا گیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کے مفاد کے خلاف کسی بھی حکومتی پالیسی کا ساتھ نہیں دیں گے اور کورونا کے دوران عمران خان کی حکومت نے ملک کو مؤثر انداز میں سنبھالا تھا۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت نے پیٹرول پمپوں کی نگرانی کے لیے خصوصی ڈیش بورڈ قائم کیا ہے، جس کے ذریعے فراہمی اور ذخیرہ اندوزی کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق پٹرول مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے قیام میں خیبرپختونخوا ملک میں سب سے آگے ہے۔
مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں 130 روپے کا بڑا اضافہ
وزیر خزانہ مزمل اسلم نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی 86 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دی گئی ہے اور حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں پٹرولیم لیوی کی مد میں 822 ارب روپے حاصل کیے ہیں۔ رواں سال کے آخر تک لیوی سے کل 1700 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف ہے۔
انہوں نے کہاکہ بی آر ٹی کے لیے مزید 140 بسیں خریدی جائیں گی، جن میں سے 52 بسیں پہلے ہی تیار ہو چکی ہیں، اور انہیں عوامی سہولت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔













