پوپ لیو XIV نے ایران میں جاری جنگ کے خاتمے اور علاقے میں پھیلی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ تنازع مزید ممالک کو عدم استحکام میں دھکیل سکتا ہے اور فوری امن مذاکرات کی ضرورت ہے۔
پوپ لیو XIV نے اتوار کے روز کہا کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ سے تشویشناک خبریں مسلسل آ رہی ہیں، اور انہوں نے زور دیا کہ تشدد ختم کیا جائے اور امن مذاکرات کے لیے جگہ فراہم کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور
انہوں نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے 9ویں روز کے دوران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ تنازع خوف و نفرت کو بڑھا رہا ہے۔ پوپ نے خطرہ ظاہر کیا کہ اس جنگ کے اثرات لبنان اور دیگر پڑوسی ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

سینٹ پیٹرز اسکوائر میں اینجلس کی دعا کے دوران پوپ نے کہا کہ آئیں ہم رب سے دعا کریں کہ بموں کی آواز بند ہو جائے، ہتھیار خاموش ہوں اور امن مذاکرات کے لیے ایسا ماحول پیدا ہو جہاں عوام کی آواز سنی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:جنگ مقبول ہورہی ہے، جنگی جنون بڑھ رہا ہے، پوپ لیو کا عالمی منظرنامے پر تشویش کا اظہار
ویٹیکن کے اعلیٰ سفارت کار نے بھی بدھ کو خبردار کیا کہ امریکی و اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور کسی ملک کو ’روک تھام کی جنگ‘ شروع کرنے کا حق نہیں حاصل۔ یہ بیان علاقے میں جاری فوجی کارروائی پر غیر معمولی طور پر براہِ راست تنقید ہے۔













