پوپ لیو چہاردہم کا ایران حملوں پر پہلا ردعمل، ہتھیاروں کے بجائے مکالمے پر زور

اتوار 1 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے مشرقِ وسطیٰ اور ایران میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن دھمکیوں یا ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مکالمے سے ممکن ہے۔

ویٹی کن سٹی سے جاری یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ہلاکت کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دفاعی تنصیبات پر کامیاب ایرانی حملوں نے امریکی سیکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی

ویٹی کن کے مطابق پوپ لیو چہاردہم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام اپنے پہلے عوامی پیغام میں کہا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران میں پیش آنے والے واقعات کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استحکام اور امن باہمی دھمکیوں یا تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال سے حاصل نہیں ہوتے بلکہ معقول، مخلصانہ اور ذمہ دارانہ بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔

ایران اس وقت شدید عدم استحکام کا شکار ہے، جہاں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ ٹارگٹ کارروائی میں ہلاکت کے دعووں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایرانی حکام نے بعض دعوؤں کی تردید کی ہے تاہم اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جوابی ایرانی کارروائی میں 3 امریکی فوجی ہلاک، واشنگٹن نے تصدیق کردی

حالیہ جھڑپوں اور حملوں کے اثرات قطر اور دبئی سمیت خلیجی خطے کے دیگر حصوں تک بھی پہنچے ہیں، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ پوپ لیو چہاردہم کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برادری کشیدگی کم کرنے اور وسیع تر جنگ کے خطرے کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp