اسلام آباد میں موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لازمی قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد شہریوں کو اس کے حصول کے لیے طویل اور صبر آزما انتظار کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مختلف مراکز پر ایم ٹیگ لگوانے کے لیے آنے والے افراد کو اوسطاً تین گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ وقت قطاروں میں گزارنا پڑ رہا ہے، جو موجودہ موسم اور رمضان کے روزوں کے دوران مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
دارالحکومت میں ان دنوں دن کے اوقات میں گرمی کی شدت غیر معمولی طور پر بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں روزے کی حالت میں دھوپ میں کھڑے ہو کر تین سے ساڑھے تین گھنٹے انتظار کرنا شہریوں کے لیے خاصا کٹھن تجربہ ثابت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موٹرسائیکل پر ایم ٹیگ لگانے کے خلاف درخواست، اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتظامیہ سے جواب طلب کرلیا
اسلام آباد انتظامیہ نے سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے گاڑیوں کے ساتھ ساتھ موٹرسائیکلوں پر بھی ایم ٹیگ لازمی قرار دیا ہے۔ تاہم بعض شہریوں کے نزدیک یہ فیصلہ کسی حد تک حیران کن ہے، کیونکہ ایم ٹیگ بنیادی طور پر ٹول پلازوں پر خودکار طریقے سے ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے نظام کے طور پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ موٹرسائیکل سواروں کی بڑی تعداد شہر سے باہر موٹرویز یا طویل شاہراہوں پر کم ہی سفر کرتی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی بنیادی وجہ سکیورٹی اور گاڑیوں کی بہتر نگرانی کو قرار دیا گیا ہے۔
اذیت ناک طریقہ کار
ایم ٹیگ لگوانے کا موجودہ طریقہ کار شہریوں کے لیے خاصا مشکل ثابت ہو رہا ہے، حالانکہ اسے نسبتاً آسان اور منظم بنایا جا سکتا تھا۔ اس وقت دارالحکومت میں ایم ٹیگ کے حصول کے لیے قائم مراکز، خصوصاً آئی ایٹ، فاطمہ جناح پارک (ایف نائن پارک) اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس پر طویل قطاریں دیکھنے میں آتی ہیں جہاں شہریوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔
راقم الحروف نے جب ایم ٹیگ لگوانے کا ارادہ کیا تو سب سے پہلے I-8 میں قائم مرکز کا رخ کیا۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ سینکڑوں افراد اپنی موٹرسائیکلیں کھڑی کر کے دھوپ میں طویل قطار بنا کر اپنی باری کے منتظر ہیں۔ چند منٹ انتظار کے بعد معلوم ہوا کہ قطار آگے ہی نہیں بڑھ رہی۔ مزید معلومات لینے پر پتہ چلا کہ سسٹم ڈاؤن ہونے کے باعث عملہ کام کرنے سے قاصر ہے اور لوگ دھوپ میں کھڑے انتظار کر رہے ہیں۔

اس صورتحال سے مایوس ہو کر راقم الحروف نے فاطمہ جناح پارک، جسے عرفِ عام میں ایف نائن پارک کہا جاتا ہے، کا رخ کیا۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ موٹرسائیکلوں کی تقریباً ایک کلومیٹر طویل قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔
حیرت کی بات یہ تھی کہ ایم ٹیگ جاری کرنے والے کاؤنٹر پر صرف ایک ہی اہلکار موجود تھا۔ وہ بیک وقت فون پر مصروف گفتگو بھی تھا اور انتہائی سست رفتاری سے شہریوں کو ایم ٹیگ جاری کر رہا تھا۔ صبح 10 بجے لائن میں شامل ہونے والے افراد کو دوپہر 2 بجے کے قریب جا کر ایم ٹیگ مل رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:“قسطوں پر لیے گئے موٹرسائیکلوں پر ایم ٹیگ لگا نہیں رہے، پولیس چالان کرتی جا رہی ہے”
قطاروں کو منظم رکھنے کے لیے کسی قسم کا عملہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث شہریوں کے درمیان اکثر تلخ کلامی اور جھگڑوں کی صورتحال بھی پیدا ہو رہی تھی۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سے لائن میں موجود ہیں جبکہ دوسرے بعد میں آنے کے باوجود آگے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
انتظامیہ سے مطالبہ
اسلام آباد کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ایم ٹیگ لگوانا لازمی قرار دیا گیا ہے تو اس کے حصول کے لیے مناسب اور سہل انتظامات بھی کیے جانے چاہئیں۔ شہریوں نے اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ٹیگ مراکز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے، عملے کو بڑھایا جائے اور ایسا منظم نظام بنایا جائے جس سے لوگوں کو گھنٹوں دھوپ میں انتظار نہ کرنا پڑے۔
بہتر انتظامات نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم کر سکتے ہیں بلکہ اس اقدام کو مؤثر اور قابلِ قبول بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔














