سٹی ٹریفک پولیس لاہور نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے جدید پولیسنگ وژن کے تحت ٹریفک وارڈنز کے لیے نئے یونیفارم کا باضابطہ آغاز کر دیا۔
اس سلسلے میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں چیف ٹریفک آفیسر لاہور ڈاکٹر محمد اطہر وحید اور دیگر سینئر افسران نے ٹریفک وارڈنز کے ہمراہ نیا یونیفارم زیبِ تن کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سی ٹی او لاہور ڈاکٹر اطہر وحید نے بتایا کہ سٹی ٹریفک پولیس لاہور کا تمام عملہ 9 مارچ بروز پیر سے شہر کی شاہراہوں پر نئے یونیفارم کے ساتھ فرائض انجام دینا شروع کر دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید طرز اور منفرد انداز سے تیار کیا گیا یہ یونیفارم نہ صرف وارڈنز کی سہولت کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے بلکہ اس سے شہریوں کے لیے ایک خوشگوار اور عوام دوست تاثر بھی پیدا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے موسم میں ٹریفک وارڈنز نیوی بلیو پینٹ، سفید شرٹ اور ریفلیکٹو جیکٹ استعمال کریں گے جبکہ سردیوں میں اس کے ساتھ نیوی بلیو جرسی شامل ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ٹریفک پولیس نے ایک دن میں 11 بچوں کو پیشہ ور بھکاریوں کے چنگل سے بچالیا
اسی طرح لائسنسنگ سینٹرز اور دفاتر میں تعینات مرد و خواتین عملہ نیوی بلیو پینٹ، کوٹ، ٹائی، سفید شرٹ اور پی کیپ کے ساتھ فرائض سرانجام دے گا۔
سی ٹی او لاہور کے مطابق نئے یونیفارم کے رنگ، بیجز اور ڈیزائن کو بین الاقوامی پولیسنگ معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد ٹریفک فورس میں نئے جذبے اور پیشہ ورانہ وقار کو فروغ دینا ہے تاکہ شہری پولیس کو اپنا محافظ اور مددگار سمجھیں۔
ڈاکٹر اطہر وحید نے مزید بتایا کہ نئے یونیفارم کے ساتھ ٹریفک پولیس کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ گاڑیاں بھی فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ملٹی آپشنز پر مشتمل ’ون ایپ‘ کا باقاعدہ آغاز بھی لاہور میں کر دیا گیا ہے۔
اس ایپ کے ذریعے ٹریفک وارڈنز ایک ہی کلک پر مختلف آپریشنل سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
مزید پڑھیں: لاہور: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس سمیت سینکڑوں سرکاری گاڑیوں کے خلاف کارروائی
ان کے مطابق اس ایپ کے ذریعے ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ کی تصدیق، ای چالان، کرائم ریکارڈ، چوری شدہ گاڑیوں کا ڈیٹا، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ سے متعلق معلومات فوری طور پر اسکرین پر دستیاب ہوں گی۔
سی ٹی او لاہورنے اس عزم کا اظہار کیا کہ خواتین سمیت ہر شہری سے عزت، احترام اور خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آیا جائے گا تاکہ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔














