ایران کے مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت دشمن کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے اور ایرانی مسلح افواج دھمکیوں کا جواب بیانات سے نہیں بلکہ میدانِ جنگ میں عملی کارروائی کے ذریعے دیتی ہیں۔
اپنے بیان میں میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکا اور صہیونی دشمن مسلسل غلط اندازوں کا شکار رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ایران : فوجی و سیاسی قیادت نئے سپریم لیڈر کی حمایت میں متحد ہوگئی
انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ دشمن کو جواب میدانِ جنگ میں دیا جائے گا۔
ان کے مطابق اب مخالف قوتوں کو سمجھ آ جانا چاہیے کہ ایران صرف نعرے لگانے والا ملک نہیں بلکہ اپنے الفاظ کو عملی اقدامات سے ثابت کرتا ہے۔
جدید اور طاقتور ہتھیاروں کا دعویٰ
میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کے ہتھیار پہلے کے مقابلے میں زیادہ جدید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق ان ہتھیاروں میں زیادہ مضبوطی، زیادہ درست نشانہ اور زیادہ طاقت موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیے جنگِ ایران کا 10واں روز: ایک اور امریکی فوجی ہلاک، امریکا نے تصدیق کردی
انہوں نے کہا کہ ماضی کی جنگوں سے حاصل ہونے والا تجربہ آج ایران کی عملی فوجی صلاحیت میں تبدیل ہو چکا ہے اور دشمن میدانِ جنگ میں ایران کی طاقت کے اثرات دیکھ رہا ہے۔
ایرانی کمانڈر نے کہا کہ دشمن بار بار دعویٰ کرتا ہے کہ اسے ایران کے میزائلوں کی تعداد معلوم ہے۔
ان کے مطابق اگر دشمن حقیقت جاننا چاہتا ہے تو اسے میدانِ جنگ میں ان میزائلوں کو گننا ہوگا، کیونکہ اسے ایران کی اصل صلاحیتوں کا اندازہ نہیں۔
شہریوں پر حملوں کا الزام
میجر جنرل عبداللہی نے الزام لگایا کہ دشمن بے گناہ شہریوں، طلبہ اور گھروں میں موجود خاندانوں کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ ایران دشمن کے فوجی مراکز اور ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جو حملہ آوروں کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک دشمن اپنے رویے اور اقدامات پر پچھتاوا محسوس نہ کرے۔














