ایران پر امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کا آج 11 واں روز ہے۔ حملوں کے دوران ایران کے سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے بیٹے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا۔
اس جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زائد ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔
ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا۔ صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطرناک ہوگا، قطر کا ایران کو انتباہ
قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔
قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اب بھی سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر کے وزیرِ اعظم اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے درمیان اب تک صرف ایک مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے ذرائع مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے تاہم قطر اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق قطر نے اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی کر لیے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک ہوگا اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی، علی لاریجانی
ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی۔
Strait of Hormuz will either be a Strait of peace and prosperity for all or will be a Strait of defeat and suffering for warmongers.
— Ali Larijani | علی لاریجانی (@alilarijani_ir) March 10, 2026
ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار، میزائل حملے جاری رکھنے کا عندیہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں اور ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاع کا حق استعمال کررہا ہے اور انہیں ایک غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے۔
پاسداران انقلاب کا انتباہ
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ خطے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیں گے۔
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والے ممالک کو اسرائیلی و امریکی سفیروں کے اخراج کے بعد آبنائے ہرمز کے استعمال کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔
ہم پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ تیل نہیں نکلے گا، پاسداران انقلاب
ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ بھی تیل نہیں نکلے گا۔
آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ہرمز کی تنگی جو دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے دشمن ملکوں اور ان کے شراکت داروں کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔
یہ انتباہ 28 فروری کو سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد دوسرے ہفتے کے شدید جھڑپوں کے دوران سامنے آیا۔
عالمی مارکیٹیں پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ اگر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی تو حملے بیسیوں گنا سخت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا سے بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ بات چیت ہماری ایجنڈا میں نہیں۔
105 میزائل اور 176 ڈرون تباہ کر دیے گئے، بحرین
بحرین کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج اور تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک کے خلاف جوابی حملوں کے بعد اب تک 105 میزائل اور 176 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔
بحرین ڈیفنس فورس کے جنرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے روک کر انہیں تباہ کیا۔
بیان کے مطابق فضائی دفاعی یونٹس ایرانی حملوں کی مسلسل لہروں کا جواب دے رہے ہیں اور ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔
بحرینی حکام نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی دستے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور اہلکاروں کی تیاری کی بدولت ملک کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔
ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار، آج حملوں میں مزید شدت آئےگی، امریکی وزیر دفاع
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے اور وہ میزائل حملوں کے لیے اسکولوں اور اسپتالوں جیسے مقامات کا استعمال کر رہا ہے۔
میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی جنرل ڈین کین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑا ہے اور میدان میں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور آج حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔
ان کے بقول گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے نسبتاً کم تعداد میں میزائل فائر کیے گئے۔
امریکی فوج اب اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہی، ترجمان ایرانی مسلح افواج
ایران کے مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کے قاتل اسرائیلی حکومت کی حفاظت کے لیے ایران پر وحشیانہ حملے کیے، لیکن طاقتور ایران اور بہادر ایرانی قوم نے ٹرمپ کے غرور اور امریکی فوج کی طاقت کو ناکام بنا دیا۔
جنرل شکارچی نے کہاکہ دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ مجرم امریکا کی مغربی ایشیا میں موجودگی ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال کا اصل سبب ہے۔
ان کے بقول امریکی فوج اب اپنی حفاظت بھی یقینی بنانے کے قابل نہیں، اور وہ خطے کے عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے جبکہ خود فرار ہو جاتی ہے۔
پیٹرولیم بحران: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اجلاس طلب
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں آئی ای اے کے رکن ممالک کے حکومتی نمائندے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے جی سیون کے توانائی وزرا کے اجلاس کے بعد کہاکہ میں نے آئی ای اے کے رکن ممالک کی حکومتوں کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے، جو آج بعد میں منعقد ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا آئی ای اے ممالک کے ہنگامی تیل کے ذخائر کو مارکیٹ کے لیے دستیاب کیا جائے یا نہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔
وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔
ایران نے ثالثی کے لیے شرط بتا دی
ایران کی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ کسی بھی ثالثی کے عمل کے لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف جنگ بندی ہو بلکہ حملے مکمل طور پر بند ہوں اور یہ یقین دہانی بھی ہو کہ مستقبل میں ایسے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا، ‘یہ معاملہ ہمارے عوام کی آج کی سنجیدہ ضرورت ہے اور انہیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی لیکن ہم اسے ختم کریں گے۔’ یہ بات نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کی۔
ایران کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی، نیتن یاہو
اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا، ‘ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے جبر سے آزاد ہوں؛ آخرکار یہ ان پر منحصر ہے۔ لیکن جو اقدامات اب تک کیے گئے ہیں، ان سے ہم ان کی ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں اور ہم ابھی ختم نہیں ہوئے۔’
امریکی اڈوں پر حملے محض دفاعی اقدام ہیں، ایران
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں پر حملے محض اپنے دفاع میں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ‘ہم نے پہلے ہی خطے کے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرے، چونکہ ہم امریکی سرزمین تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا ہمیں ان کے خطے میں موجود اڈوں، سہولیات اور اثاثوں پر حملہ کرنا پڑے گا۔’
عراقچی نے مزید کہا، ‘ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ محض اپنی حفاظت ہے، ہم ایک جارحانہ اقدام کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل غیر قانونی ہے۔’
امریکا سے دوبارہ بات چیت نہیں ہوگی، ایرانی وزیرخارجہ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری جنگ کو ناکامی قرار دیا ہے۔
عراقچی نے کہا، ‘امریکا نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ان کا ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتے ہیں۔’ پھر بھی انہوں نے ہم پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا، ‘میرا نہیں خیال کہ امریکیوں سے بات چیت کا سوال دوبارہ میز پر آئے گا۔’ عراقیچی نے کہا کہ ‘پلان اے ناکام رہا اور اب وہ دوسرے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن وہ بھی ناکام ہو چکے ہیں۔’
اسرائیل میں پچھلے 24 گھنٹوں میں 191 افراد زخمی
اسرائیل کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری جنگ کے نتیجے میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 191 افراد اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اسپتال داخل کیے جانے والے افراد میں فوجی اور عام شہری دونوں شامل ہیں، جن میں کم از کم ایک شخص کی حالت تشویشناک جبکہ 3افراد کی حالت سنگین ہے۔
اس سے قبل پیر کو ایران کے ایک میزائل حملے کے نتیجے میں یہود، اسرائیل میں ایک شخص ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوئے تھے۔

ایران نے تیل کی ترسیل روکی تو سخت جواب دیں گے، ٹرمپ
ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روکنے کی کوشش کی تو امریکا کے حملے نمایاں طور پر بڑھ سکتے ہیں۔
پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ‘ہم ان پر اتنا سخت حملہ کریں گے کہ نہ ان کے لیے اور نہ ہی ان کی مدد کرنے والے کسی بھی فریق کے لیے دنیا کے اس حصے میں دوبارہ سنبھلنا ممکن ہوگا۔’
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے تاہم حالیہ کشیدگی کے باعث ایران نے اسے بند کردیا ہے جس سے تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک لیٹر تیل بھی باہر جانے نہیں دیں گے، ایرانی پاسدارانِ انقلاب
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ سے ‘ایک لیٹر تیل بھی’ باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ‘جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے’ اور اگر حملے جاری رہے تو خطے سے تیل کی برآمدات روک دی جائیں گی۔
پاسداران انقلاب کا بیان
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کے اختتام کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘جنگ کے خاتمے کا تعین ہم کریں گے’۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ‘خطے کے حالات اور مستقبل کی صورتحال اب ہماری مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے، امریکی افواج اس جنگ کو ختم نہیں کریں گی’۔
ایرانی میزائل سے ایک اسرائیلی ہلاک
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وسطی اسرائیل پر ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ 2 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ کلسٹر وارہیڈ سے لیس میزائل کے ٹکڑے وسطی اسرائیل کے کم از کم 6 مقامات پر گرے۔
طبی حکام کے مطابق یہود کے علاقے میں ایک تعمیراتی مقام پر ایک شخص ہلاک ہوا۔
جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں زمین پر بڑے گڑھے اور گاڑیوں و عمارتوں کو دھماکوں سے پہنچنے والا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین
ایران اسرائیل پر متعدد بیلسٹک میزائل داغ چکا ہے جن میں کلسٹر بم وارہیڈ نصب ہوتے ہیں جو وسیع علاقے میں چھوٹے بم پھیلا دیتے ہیں۔
Footage shows two of the Iranian cluster bomb munitions' impacts in central Israel during the ballistic missile attack this morning.
A total of six cluster munition impact sites were reported across central Israel, killing one and seriously injuring two others. pic.twitter.com/8QEXYcuQXT
— Emanuel (Mannie) Fabian (@manniefabian) March 9, 2026
وسطی اسرائیل میں میزائل حملے، متعدد علاقوں میں دھواں اٹھنے کی اطلاعات
ایران کی جانب سے وسطی اسرائیل میں کیے گئے میزائل حملے میں کئی علاقوں سے دھواں اٹھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اسرائیل میں راکٹ فائرنگ کی وجہ سے سائرن تقریباً مسلسل بج رہے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوجی سینسر نے ابھی تک اس حوالے سے معلومات کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے لیکن عینی شاہدین کے مطابق متعدد مقامات سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔
حملے کا نشانہ بنایا گیا علاقہ وسطی اسرائیل میں واقع ہے جہاں تقریباً 44 فیصد آبادی آباد ہے۔ یہاں بن گوریون ائیرپورٹ، متعدد فوجی اڈے، وزارت دفاع اور موساد کے ہیڈکوارٹرز موجود ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقہ اسرائیل کے لیے انتہائی اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
اسی دوران حائفہ اور شمالی علاقوں میں ایران یا لبنان میں موجود حزب اللہ کی جانب سے راکٹ فائرنگ کے باعث الارمز اور سائرنز مسلسل بج رہے ہیں۔
ایران پر اسرائیل کے نئے حملے
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں میں وسیع پیمانے پر حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملے تہران، اصفہان اور جنوبی ایران میں ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر کیے جا رہے ہیں۔
فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایرانی حکومت کے انفراسٹرکچر کے خلاف جاری بڑے پیمانے کے حملوں کا حصہ ہیں۔
اس حوالے سے جاری بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ بیان اپنے ٹیلیگرام چینل پر جاری کیا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ خاتمے کے قریب پہنچ چکی، امریکی صدر کا دعویٰ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے خلاف جاری جنگ اب اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی ہے۔
ایک امریکی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابتدا میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ یہ جنگ 4 سے 5 ہفتوں تک جاری رہے گی، تاہم امریکا توقع سے کہیں تیزی سے اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے اور جنگ اب اختتام کے قریب ہے۔
ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کے بارے میں بات کرنا ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کو بڑی غلطی قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے کو نیا رہنما منتخب کر کے درست فیصلہ نہیں کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کے بارے میں بات کرنا ابھی جلد بازی ہوگی، تاہم انہوں نے اس امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔
ایران کا میزائل پروگرام تباہ کرنا ہمارا مقصد ہے، امریکی وزیر خارجہ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کے حملوں کا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔
واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے ایران کے موجودہ مذہبی حکومتی نظام کو خطے اور عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہاکہ ایرانی حکومت دنیا کو یرغمال بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک پر حملے کررہا ہے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے اور پڑوسی ممالک میں سفارتخانوں پر حملے کر رہا ہے۔
مارکو روبیو نے ایران کو دہشتگرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا نظام ریاستی وسائل کو دہشتگردانہ کارروائیوں میں استعمال کر رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہاکہ ایران پر حملوں کا مقصد اس کی اس صلاحیت کو ختم کرنا ہے اور امریکی فوج اس مقصد کے حصول کے لیے ایک غیر معمولی آپریشن انجام دے رہی ہے۔
فرانس کا بحیرہ احمر میں 2 جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس بحیرہ احمر میں یورپی یونین کے بحری مشن ’ایسپائڈز‘ کے تحت 2 جنگی فریگیٹ تعینات کرے گا۔
مزید پڑھیں: وطن واپسی کے لیے بسوں کا حصول مشکل، شہری اپنی رجسٹریشن لازمی کریں، ایران میں پاکستانی سفیر کی ہدایت
صدر میکرون کے مطابق یہ اقدام بحیرہ احمر میں جہاز رانی کے تحفظ اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے قبرص میں قبرصی صدر نیکوس کرسٹوڈولائڈز اور یونان کے وزیر اعظم کیریاکوس میتسوتاکس کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ اس وقت ایک ایسا مشن ترتیب دیا جا رہا ہے جو مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہوگا اور اس کا مقصد تجارتی جہازوں کو سیکیورٹی فراہم کرنا ہے۔
میکرون کا کہنا تھا کہ یہ مشن یورپی اور غیر یورپی ممالک کے تعاون سے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ بحیرہ احمر میں کشیدگی کے دوران بحری راستوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
روسی صدر پیوٹن کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو مبارک باد
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو اس عہدے پر تعیناتی پر مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔
اپنے پیغام میں صدر پیوٹن نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ایران کو جارحیت کا سامنا ہے اس اعلیٰ عہدے پر آپ کی ذمہ داریاں یقیناً حوصلے اور لگن کا تقاضا کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ وقار کے ساتھ اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھائیں گے اور مشکل حالات میں ایرانی قوم کو متحد رکھیں گے۔
صدر پیوٹن نے اپنے بیان میں روس کی جانب سے ایران کے لیے حمایت کا اعادہ بھی کیا اور کہا کہ روس ہمیشہ ایران کا قابل اعتماد شراکت دار رہے گا۔
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کی تصدیق، امریکا کا محتاط رویہ
ایران کے نئے سپریم لیڈر کے طور پر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب کی تصدیق کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے ردعمل میں نمایاں فرق دیکھا گیا ہے، جو ایران کی بدلتی قیادت کے جواب میں مختلف حکمت عملیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
محتاط امریکی ردعمل
اب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے جانشینی فیصلے پر براہِ راست تنقید سے گریز کیا ہے بلکہ اس پیش رفت کو توانائی کی منڈیوں اور امریکی اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے تناظر میں پیش کیا۔
صدر ٹرمپ نے اعلان کے ایک گھنٹے بعد ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں کہا کہ عارضی طور پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ عالمی استحکام اور سلامتی کے مقابلے میں معمولی قیمت ہے۔
تاہم، اتوار کو اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے دوبارہ یہ تجویز دی کہ ایران کے اگلے رہنما کو واشنگٹن کی منظوری کی ضرورت ہوگی، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ امریکا قابل قبول قیادت کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں ہلچل، خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر
اگرچہ صدر ٹرمپ نے خامنہ ای کی ممکنہ تقرری کو مسئلہ قرار دیا، مگر انہوں نے براہِ راست فوجی کارروائی کی دھمکی نہیں دی۔
یہ رویہ امریکا کے توازن کو ظاہر کرتا ہے: ملکی سیاسی بیانیے کو سنبھالنا، عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنا، اتحادیوں کو مطمئن کرنا، اور علاقائی تنازعات کو قابو میں رکھنا بغیر کسی کھلی جنگ کو ہوا دیے۔
جارحانہ اسرائیلی ردعمل
اس کے برعکس، اسرائیل نے واضح طور پر متصادم موقف اختیار کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کیٹز نے خبردار کیا کہ ایران کی حکمران اشرافیہ سے وابستہ کوئی بھی نیا رہنما ’غیر مشروط ہدف برائے خاتمہ‘ ہوگا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ جانشینوں کو ذاتی طور پر جوابدہ ٹھہرائے گی، جو تل ابیب کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایرانی قیادت کے خلاف مخصوص کارروائیاں جاری رکھے گا، جنہیں وہ خطرہ سمجھتی ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی باضابطہ تقرری سے پہلے ہی، اسرائیل نے ایران کے انفراسٹرکچر اور خطے میں پراکسی پوزیشنز پر حملے تیز کر دیے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف پالیسی بلکہ تہران کی اسٹریٹجک سمت سے وابستہ افراد پر بھی دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے۔
اثرات
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو مبینہ طور پر اسلامی انقلابی گارڈ کورز کے قریب ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی سخت گیر پالیسیوں کو جاری رکھنے والے رہنما کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، نہ کہ اعتدال کی طرف رجحان پیدا کرنے والے۔
ان کا انتخاب مرحوم والد، آیت اللہ علی خامنہ ای کے قائم کردہ نظریاتی راستے کو برقرار رکھتا ہے اور موجودہ طاقت کے ڈھانچے کی پائیداری کا عندیہ دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، بہت سے ایرانی عوام امید کرتے تھے کہ منتخب نمائندوں کی قیادت میں نظام کی طرف تبدیلی آئے گی، لیکن علاقائی تنازعات اور بیرونی مداخلت کے دباؤ کی وجہ سے یہ خواہش محدود ہو گئی ہے۔
واشنگٹن کے لیے یہ تقرری ممکنہ سفارتی تعلقات کو پیچیدہ بنا دیتی ہے، ایک رہنما جو ایران کے سیکیورٹی ادارے اور نظریاتی نظام سے جڑا ہو، جس کے خاندان کو پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں نقصان پہنچ چکا ہے، اس کے مستقبل قریب میں مذاکرات میں شراکت دار بننے کے امکانات کم ہیں۔
امریکی ردعمل ایک سنجیدہ حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو فوجی تصادم سے گریز کرتے ہوئے اثر و رسوخ قائم رکھنے، توانائی کی منڈیوں کو مستحکم کرنے، اور یورپی اور خلیجی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غیر مستحکم صورتحال کا انتظام کرنے پر مشتمل ہے۔
ایک اور امریکی فوجی کی ہلاکت
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ ایک اور امریکی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جس کے بعد اس تنازع میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ یہ تصدیق ایک روز بعد سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ میں مارے گئے فوجیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا تھا۔
ایران کی فوجی اور سیاسی قیادت نے نئے سپریم لیڈر سید مجتبیٰ خامنہ ای سے وفاداری کا اعلان کر دیا ہے۔ انہیں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے۔

دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق قم اور تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ اس سے چند گھنٹے قبل اسرائیلی حملوں میں ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے باعث تہران میں زہریلا دھواں پھیل گیا۔
ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران سعودی عرب کے شہر الخرج میں 2 افراد ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
لبنان میں اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے باعث صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلسل گولہ باری کے باعث لبنان میں 5 لاکھ سے زیادہ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازع کے باعث مختلف ممالک میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے۔
ایران سے فضائی آلودگی پاکستان پہنچ سکتی ہے، محکمہ موسمیات
پاکستان کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آلودگی ہوا کے ذریعے پاکستان کے مغربی علاقوں تک پہنچ سکتی ہے جس سے فضائی معیار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ایران کی موجودہ صورتحال کے باعث ہوائیں آلودہ ذرات کو پاکستان کے مغربی حصوں کی طرف لے جا سکتی ہیں جس سے وہاں کی فضا مزید خراب ہو سکتی ہے۔’
7 مارچ کو تہران میں آئل ریفائنریوں اور ایندھن کے ڈپو پر بڑے فضائی حملوں کے بعد شہر پر زہریلا دھواں چھا گیا ہے جبکہ اتوار کو سیاہ اور تیل آلود بارش بھی رپورٹ ہوئی۔ تیل کی تنصیبات سے اٹھنے والے گھنے سیاہ دھوئیں نے کئی علاقوں میں سورج کی روشنی کو بھی مدھم کر دیا۔
خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ پیر کے روز بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت تقریبا 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے عالمی مالیاتی منڈیوں اور توانائی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
بین الااقوامی معیار کے خام تیل برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر بڑھ کر 119َ.50 ڈالر فی بیرل تک جاپہنچی تاہم بعد میں مارکیٹ میں کچھ استحکام آیا اور قیمت کم ہو کر تقریباً 112َ.98 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہونے لگی۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ بنیادی طور پر مشرق وسطی میں جنگی خطرات اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ہوا ہے
امریکا میں پیدا ہونے والا معیاری خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تیزی سے مہنگا ہوا۔ اس کی قیمت ایک مرحلے پر 119َ.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، تاہم بعد ازاں یہ کم ہوکر 110َ.17 ڈالر فی بیرل تک آگئی۔
توانائی کے شعبے کی تحقیقی کمپنی رائسٹڈ انرجی کے مطابق دنیا کے تقریباً 15 ملین بیرل خام تیل روزانہ آبنائے ہرمز کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے جو عالمی تیل کی کل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خدشات کے باعث کئی بین الاقوامی آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز کے راستے سفر سے گریز کیا ہے۔ اس راستے سے تیل اور گیس لے جانے والے جہاز عام طور پر قطر، عراق، سعودی عرب، بحرین، کویت متحدہ عرب امارات سے تیل اور گیس لے کر دنیا کے مختلف ممالک کو سپلائی کرتے ہیں۔
جنگی صورتحال کے باعث عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کو خام تیل کی برآمدات میں مشکلات کا سامنا ہے۔ برآمدات کم ہونے کی وجہ سے ان ممالک کے اسٹوریج ٹینک بھر گئے ہیں جس کے باعث انہیں تیل کی پیداوار میں کمی کرنا پڑی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنگِ ایران شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل، ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اس دوران تیل اور گیس کی مختلف تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال مزید بگڑتی ہے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کے نتیجے میں دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل مہنگے ہونے کے ساتھ ساتھ مہنگائی میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
نئے سپریم لیڈر کا انتخاب ایران کا داخلی معاملہ ہے، چین
چین کی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سید مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر نامزد کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف ایک داخلی معاملہ ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ ایران کی طرف سے اس کے آئین کے تحت کیا گیا فیصلہ ہے۔
گزشتہ روز چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی کہا کہ ایران کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی بیرونی کوشش سے اس کے حکومتی نظام میں تبدیلی کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
وانگ یی نے واضح کیا کلر انقلاب کی سازش یا حکومت میں تبدیلی کی کوشش کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔
چین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا اور اس کا مقصد خطے میں استحکام اور امن کی حمایت کرنا ہے۔
ایران میں 9 دنوں میں 1,255 افراد شہید، 12 ہزار سے زائد زخمی
ایران کے نائب وزیر صحت علی جعفریان نے کہا ہے کہ گزشتہ 9 دنوں کے دوران ملک میں ہونے والے حملوں اور جھڑپوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس مدت میں 1,255 افراد شہید جبکہ 12 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
علی جعفریان کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والے افراد کی عمریں 8 ماہ کے شیر خوار بچے سے لے کر 88 سال تک ہیں، جو اس تنازع کے وسیع انسانی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں 200 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ میناب ایلیمنٹری اسکول میں حملے کے نتیجے میں 168 بچے شہید ہوئے۔
ایرانی نائب وزیر صحت کے مطابق طبی شعبے سے وابستہ افراد بھی اس تنازع میں متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق 55 طبی کارکن زخمی جبکہ 11 طبی اہلکار شہید ہوئے۔ شہید ہونے والوں میں 4 ڈاکٹر، 2 نرسیں اور 3 ایمرجنسی ریسکیو ورکرز شامل ہیں۔
حکام کے مطابق بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ایران میں ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کر رہی ہے، جبکہ ہسپتالوں اور طبی عملے پر بھی شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جنگِ ایران: چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا
چین کے حکومتِی خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ ژائی جون ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے تناظر میں ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ خلیجی خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے ریاض کے ساتھ مل کر مسلسل کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے۔
ژائی جون نے خود کو سعودی عرب کا اچھا دوست اور شراکت دار قرار دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکریٹری جنرل جاسم البدیوی سے ملاقاتیں کیں۔
پیر کو شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کے دوران چینی ایلچی نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
ژائی جون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بے گناہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر کسی بھی حملے کی مذمت کی جانی چاہیے۔
چینی ایلچی نے ایک بار پھر بیجنگ کی جانب سے جاری اس مطالبے کو دہرایا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کی جائیں تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے اور امن کی راہ ہموار ہو۔
ایران : فوجی و سیاسی قیادت نئے سپریم لیڈر کی حمایت میں متحد ہوگئی
ایران میں سید مجتبیٰ خامنہ ای کی بطور نئے سپریم لیڈر نامزدگی کے بعد ملک کی فوجی اور سیاسی قیادت ان کے حق میں متحد ہو گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب سے خوش نہیں ہوں گے۔ وہ انہیں ایک کمزور شخصیت قرار دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بطور امریکی صدر وہ اس عمل میں اپنی رائے دینا چاہیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ ایران کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران یہ پیغام دے رہا ہے کہ ملک کے مستقبل کے فیصلے خود ایرانی عوام اور قیادت کریں گے اور کوئی بھی بیرونی طاقت، چاہے وہ کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، ایران کی سیاسی سمت کا تعین نہیں کر سکتی۔
الجزیرہ سے وابستہ رپورٹر نے تہران سے بتایا ہے کہ ایران کے تقریباً تمام اہم سیاسی اور سکیورٹی اداروں نے سید مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان اداروں میں صدرِ مملکت، پارلیمنٹ کے اسپیکر، پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی)، مسلح افواج، بسیج نیم فوجی فورس، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، قومی پولیس اور دفاع و انٹیلی جنس کی وزارتیں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے اتحاد کا ایک مضبوط پیغام بھی ہے، خاص طور پر ان طاقتوں کے لیے جو اس وقت ایران پر حملے کر رہی ہیں۔
ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ جنگ کے پہلے دن ہونے والی ہلاکتوں کے بعد ملک میں فوری انتشار پیدا ہونے کی امیدیں پوری نہیں ہوں گی اور قیادت کی منتقلی کا عمل بھی یقینی بنا دیا گیا ہے۔
اس وقت ایرانی عوام اپنے نئے سپریم لیڈر کو دیکھنے اور ان کا پہلا خطاب سننے کے منتظر ہیں۔ مجتبیٰ خامنہ ای اب تک عوامی سطح پر زیادہ سامنے نہیں آئے، اس لیے ان کے حامی ان کا چہرہ دیکھنے اور ان کی آواز سننے کے منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایران کی سکیورٹی انتہائی حساس ہے، جس کی وجہ سے عوام سے رابطے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ نئے سپریم لیڈر کی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کے عوامی خطاب میں تاخیر کی جا رہی ہو۔














