شک کا فائدہ ملزم کو، سپریم کورٹ نے باپ کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی

پیر 9 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے مبینہ طور پر کمسن بیٹے کو زہر دے کر قتل کرنے کے الزام میں سزائے موت پانیوالے والد کو بری کرتے ہوئے ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایک باپ کا اپنے ہی کمسن بیٹے کو زہر دینا انسانی فطرت اور رویے کے خلاف ہے۔

عدالت نے ملزم کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ ملزم کے پاس اپنے بیٹے کو قتل کرنے کا کوئی واضح محرک کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: خاتون کو زبردستی شوہر کے ساتھ بھیجنے کا اختیار محدود ہے، سپریم کورٹ

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گھر میں کپاس کی فصل کے لیے استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات موجود تھیں اور امکان ہے کہ بچہ خود بھی زہریلی چیز پی سکتا تھا۔

عدالت نے میڈیکل رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 4 سالہ بچہ زہریلی اور پینے والی چیز میں تمیز نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ کے مطابق کیس میں پیش کیے گئے چشم دید گواہان کے بیانات تضادات سے بھرپور اورغیر فطری ہیں۔

مزید پڑھیں: ‘فریق خود کیسے سزا ختم کر سکتا ہے؟’ سپریم کورٹ میں وفاق کی اپیل پر شریعت اپیلیٹ بینچ کی سماعت

گواہوں نے موقع پر موجود ہونے کی کوئی ٹھوس وجہ بیان نہیں کی اور ان کی حیثیت اتفاقیہ گواہوں کی ہے۔

مزید برآں بچے کے لباس کے رنگ کے بارے میں ڈاکٹر اور گواہوں کے بیانات میں بھی سنگین تضاد پایا گیا۔

عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ گواہوں کا کمرے کی تلاشی نہ لینا یا برتن چیک نہ کرنا بھی ان کی موجودگی کو مشکوک بناتا ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: این اے 251 سے خوشحال خان خٹک کامیاب امیدوار قرار

عدالتی فیصلے کے مطابق، ایف آئی آر کے اندراج میں غیر واضح تاخیر سے کیس کی صداقت پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری قانون کے مطابق اگر کسی کیس میں شک کا ایک پہلو بھی موجود ہو تو اس کا فائدہ ملزم کو دیا جاتا ہے، اس لیے ملزم بریت کا حقدار ہے۔

یاد رہے کہ اگست 2019 میں سکھر میں 4 سالہ مدثر عرف مٹھو کی مبینہ زہر خورانی سے موت واقع ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں: اصلاحی نظرثانی کے نام پر سپریم کورٹ کے فیصلے دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے، آئینی عدالت

بچے کے ماموں نے مدعی بن کر تھانہ سنگی میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا تھا کہ والد سلطان عرف ببو جتوئی نے گواہوں کی موجودگی میں بچے کو گلاس میں زہریلی چیز پلائی۔

بعد ازاں ٹرائل کورٹ نے سلطان جتوئی کو سزائے موت سنائی تھی، جس کی سندھ ہائیکورٹ نے بھی توثیق کر دی تھی۔

تاہم سپریم کورٹ نے شواہد میں تضادات اور شک کی بنیاد پر دونوں عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں کمی، خیبرپختونخوا نے بھی اہم فیصلے کرلیے

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان