پنجاب میں تمام اسکولز، کالج اور یونیورسٹیاں 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رہیں گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اس فیصلے کا اعلان خطے میں جاری جنگ اور پیدا شدہ معاشی مشکلات کے پیشِ نظر کیا ہے، جس کا مقصد عوام کی سہولت اور انتظامی امور کو بہتر انداز میں چلانا بتایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا دفاتر میں سرگرمیاں محددو کرنے کا فیصلہ؟
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ اس دوران صوبائی وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کے لیے سرکاری فیول بند کر دیا گیا ہے اور سرکاری گاڑیوں کے لیے پٹرول اور ڈیزل الاونس میں 50 فیصد فوری کمی کی گئی ہے۔ پروٹوکول گاڑیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ناگزیر سیکیورٹی کے لیے صرف ایک گاڑی کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
In view of the extraordinary economic challenges arising from the ongoing conflict in the region, I have decided to take extraordinary measures to protect the public and manage resources responsibly.
Until the petroleum crisis is resolved, official fuel supply for provincial…
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) March 9, 2026
انہوں نے سرکاری دفاتر میں ’ورک فرام ہوم‘ نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے اور کہا کہ صرف ضروری عملہ دفتر آئے گا، اجلاس اور کانفرنسز آن لائن ہوں گی جبکہ سرکاری آؤٹ ڈور تقریبات اور ثقافتی تہوار بھی ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا : سرکاری دفاتر میں 50 فیصد گھر سے کام کی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آؤٹ ڈور فنکشنز سے گریز کریں، لیٹ نائٹ شاپنگ نہ کریں اور ضروری اشیا کی غیر ضروری خریداری یا ذخیرہ نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل حالات میں قوم کا اتحاد، صبر اور دانش مندی سب سے بڑا ہتھیار ہے اور حکومت عوام کی سہولت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مکمل اقدامات کررہی ہے۔
مریم نواز شریف نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشکل بحران میں جراتمندانہ فیصلوں پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔













