برطانیہ میں شائع ہونے والی خبروں میں مسلمانوں کے حوالے سے تعصب کی بڑی سطح سامنے آگئی ہے، ایک نئی تحقیق کے مطابق تقریباً نصف خبروں میں کسی نہ کسی درجے کا تعصب پایا جاتا ہے۔
یہ تحقیق ‘سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ’ کی جانب سے جاری کی گئی ہے جس میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران برطانوی میڈیا میں مسلمانوں کے بارے میں رپورٹنگ میں بڑے پیمانے پر منفی رجحان پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کا بنگلہ دیش میں روہنگیا مہاجرین کے لیے امداد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ
رپورٹ کے مطابق 30 بڑے میڈیا اداروں میں شائع ہونے والے مجموعی طور پر 40 ہزار 913 مضامین کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے تقریباً 20 ہزار مضامین میں کسی نہ کسی شکل میں تعصب موجود تھا۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ تقریباً 70 فیصد مضامین میں مسلمانوں یا اسلام کو منفی رویوں یا مسائل کے ساتھ جوڑا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں بازو سے وابستہ میڈیا اداروں میں مسلمانوں کے خلاف تعصب کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ان میں ‘دی اسپیکٹیٹر’ میں انتہائی متعصبانہ مضامین کا تناسب سب سے زیادہ پایا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا میں اسلاموفوبیا اور عرب مخالف جذبات میں اضافے پر امریکی سینیٹر مارک وارنر کا اظہارِ تشویش
اسی طرح ‘جی بی نیوز’، ‘دی ٹیلی گراف’، ‘جیوش کرونیکل’، ‘ڈیلی ایکسپریس’، ‘دی سن’، ‘ڈیلی میل’ اور ‘دی ٹائمز’ کو بھی مسلمانوں کے بارے میں متعصبانہ رپورٹنگ کرنے والے نمایاں اداروں میں شامل کیا گیا ہے۔
سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ کی ڈائریکٹر رضوانہ حمید نے کہا کہ ‘برطانیہ میں اپنی نوعیت کی سب سے بڑی تحقیق ہونے کے ناطے یہ رپورٹ واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ برطانوی پریس میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے ساختیاتی تعصب موجود ہے۔’














