امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو’غلط حراست کی حمایتی ریاست‘ کے طور پر نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس اقدام میں طالبان حکام سے 2 امریکی شہریوں کو فوری رہا کرنے اور ’یرغمالی سفارتکاری‘ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ایران کو واشنگٹن کی نئی ’غلط حراست‘ بلیک لسٹ میں شامل کیے جانے کے ایک ہفتہ بعد سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام، پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں، امریکا کا بڑا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس سے یہ بلیک لسٹ تشکیل دی گئی، جو دہشتگردی کی امریکی نامزدگیوں کے مشابہ ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں روبیو نےکہا کہ طالبان اب بھی اپنی سیاسی خواہشات کے حصول کے لیےدہشت گردانہ حربے استعمال کر رہے ہیں۔
’طالبان اب بھی دہشت گردانہ حربے استعمال کر کے سیاسی رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن موجودہ انتظامیہ کے تحت یہ (حکمت عملی) کام نہیں کرے گی۔‘
Today, I am designating Afghanistan as a State Sponsor of Wrongful Detention. The Taliban continue to use terrorist tactics to seek policy concessions, but it won’t work under this administration. The Taliban must release Dennis Coyle, Mahmood Habibi, and all Americans unjustly…
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) March 9, 2026
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی شہریوں کے لیے افغانستان کا سفر محفوظ نہیں ہے کیونکہ طالبان امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لے رہے ہیں۔
روبیو نے طالبان سے ڈینس کوائل، محمود حبیبی، اور افغانستان میں غیر منصفانہ طور پر قید تمام امریکی شہریوں کی فوری رہائی اور اغوا پر مبنی سفارتکاری کے ہمیشہ کے لیے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
افغان نژاد امریکی بزنس مین محمود حبیبی افغانستان کے سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ وہ اگست 2022 میں کابل میں اپنے ٹیلی کام کمپنی کے متعدد ملازمین کے ساتھ گرفتار ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: امریکا افغانستان سے اپنا جنگی سامان کیوں واپس لینا چاہتا ہے؟
امریکی محکمہ خارجہ نے حبیبی کی واپسی کے لیے معلومات فراہم کرنے پر 5 ملین امریکی ڈالر انعام کا اعلان کررکھا ہے۔
جیمز فولی فاؤنڈیشن کے مطابق کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے اکیڈمک ڈینس کوائل نے افغانستان میں 2 دہائی کام کیا اور جنوری 2025 میں گرفتار ہوئے تھے۔
روبیو نے اس اقدام کو امریکی شہریوں کی حفاظت اور عالمی انسانی حقوق کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان کی غیر قانونی قید کے خلاف مضبوط موقف اختیار کیا جائے گا۔














