امریکا نے کہا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے ہونے والے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ای میل کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ ’امریکا طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ طالبان ایک خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشتگرد گروہ ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے: پاکستان بہترین کام کررہا ہے، وہاں عظیم وزیراعظم اور جنرل ہیں، ٹرمپ کا آپریشن غضب للحق پر ردعمل
بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور جھڑپوں کے آغاز سے آگاہ ہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق طالبان اپنی انسدادِ دہشتگردی سے متعلق ذمہ داریوں کو مسلسل پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ دہشتگرد گروہ افغانستان کو اپنے گھناؤنے حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی سے خوفزدہ افغانستان نے قطر کا دروازہ کھٹکھٹا لیا
اس سے قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں افغان طالبان حکومت کے خلاف جاری ’آپریشن غضب لِلحق‘ کے تناظر میں پاکستان کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ’غیر معمولی طور پر اچھی کارکردگی‘ دکھا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ٹیکساس روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مؤقف پر سوال کا جواب دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی نے انہیں مداخلت کی درخواست کی ہے؟ اس پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’اگر ضرورت پڑی تو میں کروں گا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ میرے پاکستان کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، بہت ہی اچھے۔‘
واضح رہے کہ جمعے کے روز پاکستانی افواج نے کابل، قندھار اور پکتیا میں افغان طالبان حکومت کی اہم عسکری تنصیبات کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔ فوجی ترجمان کے مطابق جاری آپریشن مطلوبہ نتائج دے رہا ہے اور سرحد کے ساتھ 53 مقامات پر شدت پسندوں کو مؤثر انداز میں پسپا کیا گیا۔














