رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ میں چین کی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے عالمی تجارتی ماہرین نے توقعات سے کہیں بہتر قرار دیا ہے۔ امریکی توجہ عالمی تنازعات خصوصاً ایران سے متعلق کشیدگی کی جانب منتقل ہونے کے باوجود چینی برآمدی شعبہ مضبوط کارکردگی دکھا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال میں پاک چین تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سال کے پہلے دو ماہ کے دوران چین کی برآمدات میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا۔ اس اضافے میں کمپیوٹر چپس، گاڑیوں اور الیکٹرانکس مصنوعات کی ترسیل نے اہم کردار ادا کیا۔
چین کے کسٹمز ادارے کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئیوں سے کہیں بہتر رہے اور دسمبر میں ریکارڈ ہونے والی 6.6 فیصد سالانہ شرح نمو سے بھی نمایاں طور پر زیادہ ثابت ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق جنوری اور فروری میں امریکا کو برآمدات 11 فیصد کم رہیں، تاہم یہ کمی دسمبر میں ریکارڈ ہونے والی 30 فیصد کمی کے مقابلے میں کم ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین کو برآمدات تقریباً 28 فیصد جبکہ لاطینی امریکا کو 16 فیصد تک بڑھ گئیں۔ جاپان اور بھارت سمیت ایشیا کے دیگر ممالک کو برآمدات میں بھی واضح اضافہ دیکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین کا امریکا سے ’ریڈ لائنز‘ برقرار رکھتے ہوئے رابطوں کے فروغ کا عندیہ
امریکا کے ساتھ تجارتی کشیدگی کے باوجود برآمدات چین کی معیشت کے لیے مثبت پہلو ثابت ہو رہی ہیں۔ 2025 میں چینی برآمدات 5.5 فیصد بڑھیں جبکہ تجارتی سرپلس بڑھ کر تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکا کو برآمدات میں کمی آئی، تاہم دیگر خطوں کو بڑھتی ہوئی ترسیل نے اس کمی کا اثر کم کر دیا۔
اعداد و شمار کے مطابق سال کے ابتدائی دو ماہ میں سیمی کنڈکٹرز کی برآمدات مالیت کے لحاظ سے تقریباً 73 فیصد بڑھ گئیں، جس کی ایک وجہ عالمی سطح پر میموری چپس کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ بھی ہے۔ اسی عرصے میں گاڑیوں کی برآمدات 67 فیصد جبکہ مکینیکل اور الیکٹریکل مصنوعات کی برآمدات 27 فیصد بڑھیں۔
تجزیہ کاروں کی نظر اب مارچ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ بیجنگ پر مرکوز ہے، جہاں گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے تجارتی جنگ بندی معاہدے میں ممکنہ توسیع پر بات چیت متوقع ہے، جو چین کی امریکا کو برآمدات کے لیے مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔














