5جی اسپیکٹرم کی نیلامی، پاکستانی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا؟

منگل 10 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا تیسرا راؤنڈ مکمل ہو گیا جس میں کل 597 میگا ہرٹز میں سے 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: نیلامی کا تیسرا راؤنڈ مکمل؛ 5جی اسپیکٹرم کی فروخت سے پی ٹی اے کو 507 ملین ڈالر حاصل

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل حفیظ الرحمان نے اعلان کیا کہ 2300 اور 2600 میگا ہرٹز بینڈز کے تمام لاٹس بک ہو چکے ہیں جبکہ 3500 میگا ہرٹز کے 28 لاٹس میں سے 22 فروخت ہوئے۔

واضح رہے کہ اس نیلامی میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے حصہ لیتے ہوئے اسپیکٹرم خریدا جس میں زونگ نے 110 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز اور جاز نے 190 میگا ہرٹز خریدے۔

چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق اس نیلامی سے کل 507 ملین ڈالر حاصل ہوئے اور اگلے مرحلے میں جمعرات کو اجلاس میں اس حوالے سے مزید بات ہوگی۔

مگر یہاں سوال یہ ہے کہ کیا اب پاکستان میں انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہو جائیں گے اور دوسرا اس نیلامی کے بعد پاکستان کی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا؟

اس کو محض پیسوں کی نظر سے نہ دیکھا جائے، مہتاب حیدر

 

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی مہتاب حیدر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس عمل میں بہتر انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

ان کے مطابق اسپیکٹرم کی حالیہ نیلامی سے ملک میں فور جی اور آئندہ فائیو جی سروسز کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی جس سے ابتدائی طور پر بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مہتاب حیدر کے مطابق اس پیشرفت کا فائدہ نہ صرف حکومت بلکہ تینوں فریقوں کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت کو اسپیکٹرم نیلامی کے ذریعے حکومت کو ملین ڈالرز کی آمدن حاصل ہوئی ہے جو قومی خزانے میں نان ٹیکس ریونیو کے طور  پی ٹی اے کو جمع کروائے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب ٹیلی کام کمپنیوں کو اپنی سروسز کو بہتر بنانے اور صارفین کو جدید سہولیات فراہم کرنے کا موقع ملے گا۔

ایک اور سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مجموعی بجٹ تقریبا 16 یا 17 ٹریلین ڈالرز کا بجٹ ہے اور اس اعتبار سے اگرچہ یہ رقم مجموعی قومی بجٹ کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے  لیکن اس کا اصل فائدہ پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، بہتر کنیکٹیویٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کی صورت میں سامنے آئے گا اس لیے اس کو پیسوں کا نظر سے نہ دیکھا جائے۔

ان کے مطابق آج کے دور میں انٹرنیٹ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اس لیے ضروری ہے کہ اسے صرف تفریح تک محدود رکھنے کے بجائے معاشی سرگرمیوں، تعلیم، کاروبار اور ویلیو ایڈیشن کے لیے استعمال کیا جائے۔

مہتاب حیدر کے نزدیک اگر پاکستان ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مضبوط بناتا ہے تو اس سے نہ صرف معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ ملک میں ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔

یہ ٹیکنالوجی معیشت کے لیے ایک اہم جزو ہے، راجہ کامران

ماہرِ معاشیات راجہ کامران کے مطابق پاکستان میں 5G اسپیکٹرم کی نیلامی صرف ایک تکنیکی پیشرفت نہیں بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس کے فوری اثرات بہت بڑے پیمانے پر نظر نہیں آئیں گے لیکن درمیانی اور طویل مدت میں یہ پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5جی آکشن کی تیاریاں مکمل: ابتدائی مرحلے میں پاکستان کے کن مقامات پر دستیاب ہوگا؟

ان کے مطابق موبائل انٹرنیٹ کے لیے اسپیکٹرم بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہی وہ فریکوئنسی ہوتی ہے جس کے ذریعے موبائل سگنلز اور ڈیٹا منتقل ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان میں محدود اسپیکٹرم کی وجہ سے موبائل کمپنیوں کو بہتر اور تیز رفتار سروس فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا رہا جس کے نتیجے میں نہ صرف صارفین متاثر ہوئے بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی بھی سست رہی۔

 ان کا کہنا تھا کہ 5G اسپیکٹرم کی نیلامی سے موبائل کمپنیوں کو بہتر انفراسٹرکچر بنانے اور تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے کا موقع ملے گا جس سے ڈیجیٹل اکانومی کو فروغ ملے گا۔

ماہر معاشیات راجہ کامران کے مطابق 5G ٹیکنالوجی جدید معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے ای کامرس، فِن ٹیک، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، اور ڈیجیٹل سروسز کے شعبوں میں تیزی سے ترقی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار بہتر ہوگا تو کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، نئے اسٹارٹ اپس سامنے آئیں گے اور نوجوانوں کے لیے آن لائن روزگار کے مواقع بڑھیں گے اس طرح مجموعی طور پر معیشت میں سرگرمی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ 5G ٹیکنالوجی کے فوائد فوری طور پر عام لوگوں تک نہیں پہنچیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی ایک بڑی وجہ 5G ہینڈ سیٹس کی بلند قیمت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے آغاز میں عموماً آلات مہنگے ہوتے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ان کی قیمتیں کم ہو جاتی ہیں اسی طرح 3G اور 4G کے آغاز میں بھی یہی صورتحال تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ آنے والے چند سالوں میں 5G فونز کی قیمتیں کم ہونے کے بعد اس کا استعمال عام ہوگا۔

راجہ کامران نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں 5G سروسز بڑے شہروں جیسے کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور میں متعارف ہوں گی جہاں کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہیں۔ بعد ازاں یہ سروسز بتدریج دیگر شہروں تک پھیلیں گی۔

انہوں نے کہا کہ خاص طور پر صنعت، آٹومیشن، اسمارٹ سٹیز، اور روبوٹک ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں 5G ایک کلیدی کردار ادا کرے گی جس سے صنعتی پیداوار اور کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

راجہ کامران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں اب بھی بڑی تعداد میں لوگ سادہ 2G موبائل فون استعمال کر رہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ کم آمدنی اور مہنگے اسمارٹ فونز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ملک کے کئی علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ کی سہولت بھی معیاری نہیں اگر حکومت اور ٹیلی کام کمپنیاں انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں تک بہتر طریقے سے پھیلائیں تو اس سے ڈیجیٹل تقسیم کم ہو سکتی ہے۔

ان کے مطابق بہتر انٹرنیٹ سروسز سے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو بھی آن لائن کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیشن جیسے شعبوں میں آگے بڑھنے کے مواقع ملیں گے لہٰذا اس طرح ڈیجیٹل معیشت کا دائرہ بڑے شہروں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل سکتا ہے۔

راجہ کامران کا کہنا تھا کہ 5G اسپیکٹرم آکشن پاکستان کے لیے ایک اہم اقتصادی موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے مؤثر پالیسی، بہتر انفراسٹرکچر اور سستی ڈیوائسز کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ نہ صرف ڈیجیٹل معیشت کو تیز کرے گا بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کر کے مجموعی طور پر پاکستان کی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

بہتر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے، زوہیب خان

سابق چئیرمین پاشا محمد زوہیب خان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق پاکستان میں اسپیکٹرم کی نیلامی اور بہتر انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کی جانب پیشرفت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک آئی ٹی ایکسپرٹ کے مطابق تیز رفتار انٹرنیٹ اور بہتر کنیکٹیویٹی نہ صرف ٹیلی کام سیکٹر کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اس کے اثرات معیشت کے دیگر شعبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔

زوہیب خان کے مطابق 4 جی اور آئندہ 5 جی ٹیکنالوجی کی توسیع سے آن لائن کاروبار، فری لانسنگ، ای کامرس، آئی ٹی سروسز اور ڈیجیٹل اسٹارٹ اپس کو نمایاں فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں، صحت کے شعبے اور سرکاری خدمات میں بھی ڈیجیٹل سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے گا۔

ان کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اس لیے ضروری ہے کہ کنیکٹیویٹی کو صرف تفریح یا سوشل میڈیا تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے معاشی سرگرمیوں، آن لائن کام اور ٹیکنالوجی بیسڈ کاروبار کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر حکومت ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی اور آئی ٹی تعلیم پر مسلسل سرمایہ کاری جاری رکھے تو پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی نہ صرف مضبوط ہو سکتی ہے بلکہ عالمی مارکیٹ میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔

تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی فری لانسنگ و دیگر کے لیے نہایت ضروری ہے، فطیل احمد خان

ملک میں انٹرنیٹ کی بہتری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گلوبل فری لانسرز یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں معیاری اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر آن لائن شعبوں کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں انٹرنیٹ کا نظام بہتر اور مستحکم ہو جائے تو اس سے نہ صرف فری لانسرز بلکہ طلبہ اور نوجوانوں کو بھی بے شمار مواقع حاصل ہوں گے۔

طفیل احمد خان نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں فری لانسنگ کے شعبے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث آئی ٹی ایکسپورٹس اور بیرون ملک سے آنے والی رقوم میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے طلبہ اور نوجوان اب فری لانسنگ کو ایک باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کر رہے ہیں تاہم اگر انہیں انٹرنیٹ کی رفتار اور تسلسل کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو اس شعبے کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے۔

طفیل احمد خان نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور 5G ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی پیشرفت ہو رہی ہے جو خوش آئند ہے۔ ان کے مطابق چینی کمپنیوں سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ انٹرنیٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ہونے والی کوششوں کو مزید تیز کیا جانا چاہیے۔

طفیل احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں عالمی معیار کا انٹرنیٹ دستیاب ہو جائے تو فری لانسنگ، ای کامرس، یوٹیوب آٹومیشن اور دیگر آن لائن کاروباروں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ افراد بھی فائدہ اٹھائیں گے جو موبائل ڈیٹا کے ذریعے روزگار حاصل کرتے ہیں جیسے مختلف ایپس کے رائیڈرز اور کیپٹن جس سے پاکستان کی اکانومی کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ ملک ترقی کرے گا۔طفیل احمد خان نے کہا کہ بہتر انٹرنیٹ سہولیات سے نہ صرف آئی ٹی ایکسپورٹس اور ریمیٹنس میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے افراد کی آمدنی میں بھی بہتری آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ 5G ٹیکنالوجی کی بدولت انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں بہتری آئے گی جس سے فری لانسنگ، آئی ٹی سروسز، ای کامرس اور آن لائن کاروباروں کو مزید وسعت مل سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 5جی پاکستان میں آیا تو کیا عوام اس کا خرچہ برداشت کرسکیں گے؟

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کام کرنے کے مواقع میں اضافہ ہوگا جس سے ملک میں روزگار کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ، دہشتگردی کا شبہ، تحقیقات جاری

پاکستان سپر لیگ کا 11واں ایڈیشن، فیصل آباد اور پشاور میزبانوں کی فہرست میں شامل

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟