امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں کشیدگی کے اثرات غزہ پر بھی پڑنے لگے ہیں، جہاں 2 سال سے جاری جنگ کے باعث پہلے ہی شدید انسانی بحران موجود ہے۔ اسرائیل نے غزہ کی سرحدی گزرگاہوں پر اقدامات سخت کردیے ہیں، جس سے ضروری امدادی سامان کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب 6 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ تقریباً 10 زخمی ہوئے۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق موجودہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 648 افراد ہلاک اور تقریباً 18 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امن کا راستہ اسرائیلی جارحیت کے خاتمے سے مشروط ہے، حماس
الجزیرہ کے مطابق اقتصادی امور کے ماہر محمد ابو جیاب نے کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں قیمتوں میں اضافہ اور اشیائے خورد و نوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ امدادی سامان کی کمی اور درآمدات میں کمی کی وجہ سے انسانی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
یونیسف کے ترجمان کے مطابق بنیادی اشیا کی قیمتیں بعض علاقوں میں 200 سے 300 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
یورومیڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کے سربراہ رامی عبدو کا کہنا ہے کہ ایران پر جنگ نے اسرائیل کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بڑھانے کا موقع دیا ہے۔ ہسپتال کم وسائل کے باعث محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور مریض علاج کے لیے سفر نہیں کر پا رہے۔ ادویات اور طبی سامان کی کمی کے باعث بچوں میں غذائی قلت اور صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے غزہ سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی، وزیر دفاع خواجہ آصف
غزہ کی عبوری انتظامی کمیٹی کی تشکیل کے باوجود رافاہ لینڈ کراسنگ مسلسل دسویں روز بند ہے، جس سے انتظامی کام متاثر ہو رہا ہے۔ اسرائیل عالمی توجہ ایران کی جنگ کی طرف منتقل ہونے کا فائدہ اٹھا کر غزہ میں سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیاسی اور اقتصادی بندش کے باعث غزہ میں بحالی کے کام جزوی طور پر متاثر ہیں اور ضروری تعمیراتی مواد، ایندھن اور بھاری مشینری کی آمد اسرائیلی منظوری اور پیچیدہ کراسنگ عمل پر منحصر ہے۔
سیاسی تجزیہ کار عہد فروانہ کے مطابق اسرائیلی حکام عالمی توجہ کے ایران کی جنگ کی جانب منتقل ہونے کا فائدہ اٹھا کر غزہ میں پہلی مرحلے کے اقدامات طویل کر رہے ہیں، جبکہ دوسری مرحلے میں پیشرفت رک گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس دوبارہ منظم، کنٹرول مستحکم کرنے کی کوششیں تیز
سرائیل تقریباً 60 فیصد علاقے پر قابو رکھتا ہے اور مسلسل فوجی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے غزہ میں عدم استحکام برقرار رکھنا چاہتا ہے۔














