وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کو پریمیئر انوسٹی گیشن ایجنسی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جرائم کے خاتمے اور عوامی پذیرائی کو دیکھتے ہوئے سی سی ڈی کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب بھر میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے 36 نئے تھانے قائم
سی سی ڈی کو دنیا کے پانچ بہترین جرائم کنٹرول کرنے والے اداروں کی طرز پر استوار کیا جائے گا۔ جدید فارنزک، تفتیشی مہارتیں، ماڈرن ٹیکنالوجی، اے آئی سافٹ ویئر، جدید ترین انٹیلیجنس سرویلنس، مشینری اور آلات کے ذریعے سی سی ڈی کو پاکستان کا سب سے جدید ادارہ بنایا جائے گا۔ مجرموں کا سراغ لگانے اور ان کی مانیٹرنگ کے جدید آلات بھی سی سی ڈی کو فراہم کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ نے سی سی ڈی کا جدید آلات سے لیس ہیڈکوارٹر بنانے کی منظوری دی ہے اور پنجاب کے ہر ڈویژن، ضلع اور تحصیل میں سی سی ڈی آفس، تھانے اور رہائش گاہیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
عید الفطر کے بعد پنجاب بھر میں غیر قانونی اسلحے کے خلاف مہم کی بھی منظوری دی گئی ہے۔ سی سی ڈی کے اقدامات سے پنجاب میں قتل اور خواتین کے خلاف جرائم میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جرائم کی شرح میں نمایاں کمی لے آئے، سی سی ڈی پنجاب نے ایچ آر سی پی کی رپورٹ مسترد کردی
گزشتہ سال کے مقابلے میں ڈکیتی کے واقعات میں 77 فیصد، موبائل اور بیگ چھننے کے واقعات میں 49 فیصد، گاڑی چوری میں 17 فیصد، اقدام قتل میں 31 فیصد اور اغوا برائے تاوان کے واقعات میں 45 فیصد کمی آئی ہے۔
غیر قانونی اسلحے کے سدباب کے لیے نیا قانون بنانے اور خواتین پر تیزاب حملوں کے خلاف کارروائی کے لیے سی سی ڈی کو خصوصی ٹاسک دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ سی سی ڈی میں جرائم کے خاتمے کے جدید تحقیقی مرکز کے قیام کی بھی منظوری دی گئی ہے۔














