امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور اسرائیل کی ایران پر یلغار کے بیچ غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا
امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب ایرانی ماہرین نے ٹرمپ کے بیانات پر سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں زمینی صورتحال سے متصادم قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیے: توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطرناک ہوگا، قطر کا ایران کو انتباہ
مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر اور تہران میں قائم سینٹر فار مڈل ایسٹ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے سینئر ریسرچ فیلو عباس اصلانی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے جس کے باعث ان پر مکمل اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے عباس اصلانی نے کہا کہ جنگ کے جلد خاتمے سے متعلق ٹرمپ کے بیانات کو بعض حلقے عالمی توانائی مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حالات میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق جب ٹرمپ یہ بیانات دے رہے تھے تو اسی وقت تہران اور اس کے نواحی علاقوں، بشمول کرج، میں جنگی طیاروں کی پروازیں اور شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کی نئی ’غلط حراست‘ بلیک لسٹ میں ایران کے بعد افغانستان بھی شامل
عباس اصلانی کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے حکومتی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جنگ کے نتائج ویسے سامنے نہیں آئے جیسے امریکا اور اسرائیل نے پہلے سے توقع کی تھی اسی لیے ٹرمپ ممکنہ طور پر صورتحال سے نکلنے کے لیے ایک طرح کی فتح کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔














