مصنوعی ذہانت یا اے آئی اب پارکنسن، اینٹی بایوٹک مزاحم سپر بگز اور دیگر نایاب بیماریوں کے لیے نئی دوائیں دریافت کر رہی ہے جو سائنسدانوں کے لیے پہلے ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کا ایران کی جانب سے داغے گئے 9بیلسٹک میزائلز اور 109 ڈرون تباہ کرے کا دعویٰ
آدھی صدی سے انسان بیکٹیریا کے خلاف جنگ ہار رہا ہے۔ اینٹی بایوٹکس کی افادیت کم ہوتی جا رہی ہے اور ہر سال تقریباً 11 لاکھ لوگ ایسے انفیکشنز سے مر جاتے ہیں جو پہلے آسانی سے قابل علاج تھے۔ سنہ 2050 تک یہ تعداد 8 ملین تک پہنچ سکتی ہے اگر فوری اقدامات نہ کیے جائیں۔
نئی اینٹی بایوٹکس تیار کرنا مہنگا اور وقت طلب ہے۔ سنہ 2017 سے سنہ 2022 کے درمیان صرف 12 نئی اینٹی بایوٹکس منظور ہوئیں، جن میں زیادہ تر پرانی دوائیوں کی طرح تھیں جن پر بیکٹیریا پہلے ہی مزاحمت کر رہا تھا۔
اے آئی کی مدد سے نئی دریافتیں
میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے جیمز کولنز اور ان کی ٹیم نے اے آئی کی مدد سے 45 ملین کیمیائی ساختوں کو سکین کر کے دو نئے مرکبات دریافت کیے جو گونوریا اور ایم آر ایس اے جیسے مزاحم بیکٹیریا کے خلاف موثر ہو سکتے ہیں۔ یہ مرکبات پہلے موجود اینٹی بایوٹکس سے مختلف طریقے سے بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں، جس سے نئی دوائیوں کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پارکنسن کی بیماری میں پیشرفت
پارکنسن سنہ 1817 میں شناخت ہوئی لیکن اب تک کوئی علاج اس کی پیش رفت کو روک نہیں سکا۔ دنیا میں ایک کروڑ سے زائد مریض ہیں۔
کیمبرج یونیورسٹی کی مائیکل وینڈروسکولو نے اے آئی استعمال کرتے ہوئے لیوی باڈیز یعنی دماغ میں غیر معمولی پروٹین کے جماؤ کو نشانہ بنانے والی نئی مرکبات دریافت کیں جو بیماری کی ابتدا کو روکنے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔ اے آئی کی مدد سے ہزاروں مرکبات کو چند دنوں میں جانچا جا سکتا ہے جو روایتی طریقوں سے ناممکن تھا۔
موجودہ دوائیوں کا نیا استعمال
کچھ معاملات میں نئی دوائی بنانے کی بجائے پرانی دوائیوں کو دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ڈیوڈ فایگن بام نے اپنی نایاب بیماری کیسل مین ڈیزیز کے علاج کے لیے پرانی دوائی سرولیمس استعمال کی اور صحت یاب ہوئے۔
مزید پڑھیے: پاکستان 2030 تک مصنوعی ذہانت میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف
سنہ2022 میں انہوں نے ایوری کیور کا قیام کیا جہاں اے آئی کے ذریعے ہزاروں دوائیوں کو ہزاروں بیماریوں کے لیے دوبارہ جانچا جاتا ہے۔
نایاب اور پیچیدہ بیماریوں کے لیے اے آئی
میک گل یونیورسٹی کے محققین نے AI استعمال کرتے ہوئے آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس کے لیے موجود دوائیوں کی افادیت دوبارہ جانچی۔ اے آئی نے بیماری کی پیچیدہ ترقی کو ماڈل کیا اور ممکنہ دوائیوں کی نشاندہی کی۔
مستقبل میں اے آئی کی اہمیت
کمپنیاں جیسے انسِلِکو میڈیسن، ٹیری، آئسومورفک لیبز اور ریکرشن فارماسوٹیکلز مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے دوائیوں میں طبی پیشرفت کر رہی ہیں۔
جون ڈنگ کے مطابق اگلے 5–10 سال میں زیادہ تر نئی دوائیوں کی ترقی اے آئی کی رہنمائی میں یا مکمل طور پراے آئی پر مبنی ہو سکتی ہے۔
حدود اور حقیقت
اگرچہ اے آئی تحقیق میں انقلابی ثابت ہو رہا ہے لیکن تمام ڈیٹا بائیوٹیک اور فارما کمپنیوں کے پاس محفوظ ہے۔ اے آئی فی الحال ابتدائی اسکریننگ، ٹارگٹ شناخت اور ممکنہ مولیکیولز کی جانچ میں سب سے زیادہ مددگار ہے۔ مکمل علاج تک پہنچنے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: پالتو جانوروں کو گھر پر اکیلا چھوڑنا دشوار، مصنوعی ذہانت نے یہ مشکل بھی حل کردی
اے آئی نے بیماریوں کے علاج کے نئے دروازے کھول دیے ہیں اور یہ نہ صرف نئی دوائیوں کی دریافت کو تیز کر رہا ہے بلکہ پرانی دوائیوں کے نئے استعمال بھی ممکن بنا رہا ہے جو پارکنسن، سپر بگز اور نایاب بیماریوں کے لیے امید کی کرن ہے۔














