بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے سربراہ اور اپوزیشن رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمان کے ایک خط کے منظر عام پر آنے کے بعد سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا ہے، جس میں ان کے دفتر سے وزیر خارجہ کو سفارش کی گئی تھی کہ اپوزیشن کے خارجہ امور کے مشیر کو وزارت خارجہ میں وزارتی درجہ دیا جائے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق خط میں تجویز دی گئی تھی کہ اپوزیشن لیڈر کے خارجہ امور کے مشیر پروفیسر محمد محمود الحسن کو وزیر کے مساوی حیثیت دی جائے تاکہ اپوزیشن کی خارجہ پالیسی سے متعلق آرا باضابطہ طور پر حکومت تک پہنچائی جاسکیں اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے میں مدد ملے۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا عوامی لیگ رہنماؤں کی ضمانت اور دفاتر کھولنے پر تشویش کا اظہار
اس غیر معمولی تجویز کے سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں قانونی حیثیت اور سیاسی روایت سے متعلق سوالات اٹھائے گئے، جبکہ ناقدین نے اپوزیشن کے مشیر کو حکومتی وزارت میں وزارتی درجہ دینے کی تجویز پر شدید اعتراض کیا۔
منگل کو جاری بیان میں جماعت اسلامی نے خط بھیجے جانے کی تصدیق کی، تاہم مؤقف اختیار کیا کہ وزارتی درجہ دینے سے متعلق حصہ پارٹی سربراہ کی منظوری کے بغیر شامل کیا گیا تھا۔
جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور نے کہا کہ مشیر کو صرف پارٹی کی خارجہ پالیسی سے متعلق مؤقف وزیر خارجہ تک پہنچانے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم انہوں نے ہدایات سے ہٹ کر اضافی نکات شامل کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں: بدعنوانی سے پاک بنگلہ دیش اور ترقی یافتہ بوگورا ہمارا ہدف ہے، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
انہوں نے بتایا کہ معاملہ سامنے آنے کے بعد 2 مارچ کو پروفیسر محمد محمود الحسن کو ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ رکن پارلیمنٹ بیرسٹر میر احمد بن قاسم ارمان کو اپوزیشن لیڈر کا نیا خارجہ امور مشیر مقرر کر دیا گیا ہے۔
میاں غلام پرور کے مطابق جماعت اسلامی شفاف اور جوابدہ سیاسی طرز عمل پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی غلط فہمی سے بچنے کے لیے فوری اصلاحی اقدامات کیے جاچکے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس نے خارجہ پالیسی میں اپوزیشن کے کردار اور اس نوعیت کی سفارشات کے اختیارات سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔














