جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سیکریٹری جنرل میا غلام پرور نے جولائی تشدد سے متعلق گرفتار کالعدم بنگلہ دیش عوامی لیگ کے متعدد رہنماؤں کو ضمانت ملنے اور پارٹی دفاتر دوبارہ کھولنے کی اطلاعات پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
اپنے بیان میں میں غلام پرور کا کہنا تھا کہ جولائی تحریک کے دوران طلبا اور شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں عوامی لیگ کی قیادت اور کارکنان براہِ راست ملوث تھے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں میڈیا پر حملے منصوبہ بندی کے تحت ہوئے، تحقیقات میں انکشاف
ان کے مطابق جن افراد پر سنگین الزامات عائد ہیں، انہیں یکے بعد دیگرے ضمانت دی جارہی ہے۔ ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے باوجود ملک کے مختلف علاقوں میں پارٹی دفاتر بااثر حلقوں کی سرپرستی میں دوبارہ فعال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عوامی سطح پر خدشات پائے جاتے ہیں کہ ان دفاتر کو ازسرِ نو تنظیم سازی اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جماعتِ اسلامی کے رہنما نے اسے جمہوری عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنگین نوعیت کے مقدمات میں نامزد افراد کے ساتھ نرمی ناقابلِ قبول ہے۔
بیان میں نارائن گنج سٹی کارپوریشن کی سابق میئر سیلینا حیات آئیوی کو دی گئی عبوری ضمانت کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر کریک ڈاؤن میں کردار کا الزام عائد کیا گیا۔ اسی طرح سابق رکنِ پارلیمنٹ عبدالرحمان بودی کی ضمانت کا بھی ذکر کیا گیا، جن پر ماضی میں منشیات سے متعلق الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
میا غلام پرور کے مطابق مختلف اضلاع میں دیگر شخصیات کو بھی اسی نوعیت کی رعایت دی جارہی ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ جولائی کے واقعات سے متعلق تمام ملزمان کے خلاف شفاف اور فوری ٹرائل یقینی بنایا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ضمانت پر رہائی پانے والے افراد دوبارہ بدامنی میں ملوث ہوسکتے ہیں، جس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔
جماعتِ اسلامی نے عثمان ہادی کے قتل کے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کیس میں نامزد ملزم پہلے حراست میں تھا، مگر ضمانت پر رہائی کے بعد دن دیہاڑے واردات انجام دی، بیان میں اس مقدمے میں بھی فوری انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر عائد پابندی ختم، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا
جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ رہنماؤں کی ضمانت منسوخ کی جائے، دفاتر کھولنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور تمام مقدمات میں تیز رفتار کارروائی کی جائے، بصورتِ دیگر عوامی اور طلبہ سطح پر احتجاجی ردِعمل سامنے آ سکتا ہے۔












