مشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

بدھ 11 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی دی ہے، تاہم ایران نے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب مذاکرات نہیں کرےگا۔

اس جنگ کے دوران اب تک 1300 سے زیادہ ایرانی جاں بحق ہوگئے ہیں جن میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملے میں شہید ہونے والی 170 بچیاں اور اسٹاف بھی شامل ہیں۔ ایران نے خطے میں موجود امریکی بیسز پر جوابی حملوں کا اعلان کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر بھی فضائی اور ڈرون حملے کیے ہیں جس کے بعد اس جنگ کا دائرہ کار خطے میں وسیع ہوگیا ہے۔

ایران سے بات چیت کرسکتا ہوں لیکن یہ شرائط پر منحصر ہوگا۔ صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہو سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ مذاکرات کی شرائط پر منحصر ہوگا۔

امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ انہیں اطلاعات ملی ہیں کہ تہران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران کے ساتھ بات چیت کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکا نے 140 امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران جانی نقصانات سے متعلق رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قریباً 140 امریکی فوجی 10 روزہ لڑائی کے دوران زخمی ہوئے۔

دوسری جانب خبر ایجنسی کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران زخمی ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 150 تک پہنچ چکی ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔

ادھر امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس میں ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری کررہا ہے۔

توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطرناک ہوگا، قطر کا ایران کو انتباہ

قطر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا اور ایرانی جارحیت سے نمٹنا اس کی اولین ترجیح ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اپنے بیان میں کہا کہ قطر اب بھی سفارتکاری اور مذاکرات پر یقین رکھتا ہے تاہم کسی بھی حملے کی صورت میں مناسب اور مؤثر ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے قطر کے وزیرِ اعظم اور ایران کے وزیرِ خارجہ کے درمیان اب تک صرف ایک مرتبہ رابطہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے ذرائع مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے تاہم قطر اس وقت خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

ماجد الانصاری کے مطابق قطر نے اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات بھی کر لیے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی خطرناک ہوگا اور اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

لبنان: بیروت میں ہوٹل پر اسرائیلی حملہ، 4 ایرانی سفارتکار شہید

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک ہوٹل پر ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں ایران کے 4 سفارتکار شہید ہو گئے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر نے منگل کو بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کیے گئے حملے میں ایرانی سفارت خانے کے چار اہلکار جان سے گئے۔

ایرانی سفیر نے اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سیکربٹری جنرل اور سلامتی کونسل و جنرل اسمبلی کے صدور کو ایک ہنگامی خط بھی ارسال کیا ہے۔

خط میں بتایا گیا کہ 8 مارچ کو اسرائیل نے بیروت کے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایرانی سفارتی عملے کے چار ارکان شہید ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق شہدا میں سفارت خانے کے سیکنڈ اور تھرڈ سیکرٹری، ملٹری اتاشی اور ملٹری مشن آفیسر شامل ہیں۔

دوسری جانب لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق وسطی بیروت میں واقع رمادا ہوٹل کے ایک اپارٹمنٹ پر ہونے والے اس حملے میں مجموعی طور پر چار افراد جاں بحق جبکہ دس زخمی ہوئے۔

آبنائے ہرمز جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی، علی لاریجانی

ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز یا تو سب کے لیے امن اور خوشحالی کی گزرگاہ بنے گی، یا پھر جنگ بھڑکانے والوں کے لیے شکست اور تکلیف کی گزرگاہ ثابت ہوگی۔

ایران کا امریکا سے مذاکرات سے انکار، میزائل حملے جاری رکھنے کا عندیہ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں اور ایران میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا کر اپنے دفاع کا حق استعمال کررہا ہے اور انہیں ایک غیر قانونی جارحیت کا سامنا ہے۔

پاسداران انقلاب کا انتباہ

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ صرف ایران کرے گا۔ اگر امریکا اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ خطے سے ایک قطرہ تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیں گے۔

پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ وہ ایران سے تعلق رکھنے والے ممالک کو اسرائیلی و امریکی سفیروں کے اخراج کے بعد آبنائے ہرمز کے استعمال کی پیشکش بھی کر سکتے ہیں۔

ہم پر حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ تیل نہیں نکلے گا، پاسداران انقلاب

ایران کی طاقتور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کے فضائی حملے جاری رہے تو خطے سے ایک قطرہ بھی تیل نہیں نکلے گا۔

آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) کے ترجمان علی محمد نائینی نے کہا کہ ہرمز کی تنگی جو دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل کے لیے اہم ہے دشمن ملکوں اور ان کے شراکت داروں کے لیے مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔

یہ انتباہ 28 فروری کو سابق رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد دوسرے ہفتے کے شدید جھڑپوں کے دوران سامنے آیا۔

عالمی مارکیٹیں پہلے ہی غیر مستحکم ہو چکی ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ اگر تیل کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی تو حملے بیسیوں گنا سخت ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا سے بات چیت کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب امریکا کے ساتھ بات چیت ہماری ایجنڈا میں نہیں۔

105 میزائل اور 176 ڈرون تباہ کر دیے گئے، بحرین

بحرین کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی افواج اور تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک کے خلاف جوابی حملوں کے بعد اب تک 105 میزائل اور 176 ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

بحرین ڈیفنس فورس کے جنرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایرانی حملوں کو کامیابی سے روک کر انہیں تباہ کیا۔

بیان کے مطابق فضائی دفاعی یونٹس ایرانی حملوں کی مسلسل لہروں کا جواب دے رہے ہیں اور ملکی فضائی حدود کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر متحرک ہیں۔

بحرینی حکام نے ان حملوں کو جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوجی دستے پوری طرح تیار ہیں اور کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ پر موجود ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بحرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں اور اہلکاروں کی تیاری کی بدولت ملک کی فضائی حدود کا تحفظ یقینی بنایا جا رہا ہے۔

ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار، آج حملوں میں مزید شدت آئےگی، امریکی وزیر دفاع

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہے اور وہ میزائل حملوں کے لیے اسکولوں اور اسپتالوں جیسے مقامات کا استعمال کر رہا ہے۔

میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی جنرل ڈین کین کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران اس وقت عالمی سطح پر تنہا کھڑا ہے اور میدان میں بری طرح پسپا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کے میزائل پروگرام اور دفاعی صنعتی مراکز کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بحریہ کی صلاحیت کو ختم کرنا بھی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے اور آج حملوں میں مزید شدت آنے کا امکان ہے۔

ان کے بقول گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایران کی جانب سے نسبتاً کم تعداد میں میزائل فائر کیے گئے۔

امریکی فوج اب اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہی، ترجمان ایرانی مسلح افواج

ایران کے مسلح افواج کے ترجمان جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بچوں کے قاتل اسرائیلی حکومت کی حفاظت کے لیے ایران پر وحشیانہ حملے کیے، لیکن طاقتور ایران اور بہادر ایرانی قوم نے ٹرمپ کے غرور اور امریکی فوج کی طاقت کو ناکام بنا دیا۔

جنرل شکارچی نے کہاکہ دنیا نے واضح طور پر دیکھ لیا ہے کہ مجرم امریکا کی مغربی ایشیا میں موجودگی ہی خطے میں غیر یقینی صورتحال کا اصل سبب ہے۔

ان کے بقول امریکی فوج اب اپنی حفاظت بھی یقینی بنانے کے قابل نہیں، اور وہ خطے کے عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے جبکہ خود فرار ہو جاتی ہے۔

پیٹرولیم بحران: بین الاقوامی توانائی ایجنسی کا اجلاس طلب

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے تناظر میں آئی ای اے کے رکن ممالک کے حکومتی نمائندے صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے ملاقات کریں گے۔

انہوں نے جی سیون کے توانائی وزرا کے اجلاس کے بعد کہاکہ میں نے آئی ای اے کے رکن ممالک کی حکومتوں کا ایک غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے، جو آج بعد میں منعقد ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس اجلاس میں مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آیا آئی ای اے ممالک کے ہنگامی تیل کے ذخائر کو مارکیٹ کے لیے دستیاب کیا جائے یا نہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد

وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو خط لکھ کر انہیں سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز ہونے پر مبارکباد دی اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔

وزیراعظم نے ایرانی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے امت مسلمہ کے لیے دعاؤں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی وفات پر پاکستانی عوام شدید دکھ میں ہیں اور مشکل وقت میں ایران کی قیادت اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں ایران امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران تعلقات مشترکہ عقیدے، تاریخ، ثقافت اور زبان کی بنیاد پر مضبوط ہیں۔

وزیراعظم نے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور تمام شعبوں میں باہمی مفاد کے لیے ایران کے ساتھ کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

شہباز شریف نے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، کامیابی اور ایرانی عوام کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے دعائیں بھی کیں۔

ایران نے ثالثی کے لیے شرط بتا دی

ایران کی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ کسی بھی ثالثی کے عمل کے لیے یہ ضروری ہے کہ نہ صرف جنگ بندی ہو بلکہ حملے مکمل طور پر بند ہوں اور یہ یقین دہانی بھی ہو کہ مستقبل میں ایسے حملے دوبارہ نہیں ہوں گے۔

انہوں نے کہا، ‘یہ معاملہ ہمارے عوام کی آج کی سنجیدہ ضرورت ہے اور انہیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے۔ ہم نے جنگ شروع نہیں کی لیکن ہم اسے ختم کریں گے۔’ یہ بات نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کی۔

ایران کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی، نیتن یاہو

اسرائیل کے وزیرِاعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے خلاف اسرائیلی فوجی کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا، ‘ہماری خواہش ہے کہ ایرانی عوام ظلم کے جبر سے آزاد ہوں؛ آخرکار یہ ان پر منحصر ہے۔ لیکن جو اقدامات اب تک کیے گئے ہیں، ان سے ہم ان کی ہڈیوں کو توڑ رہے ہیں اور ہم ابھی ختم نہیں ہوئے۔’

امریکی اڈوں پر حملے محض دفاعی اقدام ہیں، ایران

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران خطے میں امریکی فوجی اڈوں اور اثاثوں پر حملے محض اپنے دفاع میں کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم نے پہلے ہی خطے کے تمام ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ ہم پر حملہ کرے، چونکہ ہم امریکی سرزمین تک نہیں پہنچ سکتے، لہٰذا ہمیں ان کے خطے میں موجود اڈوں، سہولیات اور اثاثوں پر حملہ کرنا پڑے گا۔’

عراقچی نے مزید کہا، ‘ہم جو کچھ کر رہے ہیں وہ محض اپنی حفاظت ہے، ہم ایک جارحانہ اقدام کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل غیر قانونی ہے۔’

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ٹورنٹو میں امریکی قونصل خانے پر فائرنگ، دہشتگردی کا شبہ، تحقیقات جاری

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟