بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع موڑ لینے کے لیے مشہور رہی ہے۔ یہاں سیاسی اتحاد، مفاہمتیں اور اقتدار کے فارمولے اکثر موسم کی طرح بدلتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقتاً فوقتاً صوبے میں حکومت کی تبدیلی یا اقتدار کی تقسیم سے متعلق افواہیں اور قیاس آرائیاں گردش میں رہتی ہیں۔ اس وقت بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
موجودہ صوبائی حکومت تقریباً 2 سال کا عرصہ مکمل کر چکی ہے۔ اسی دوران صوبائی اسمبلی کے ایوان سے باہر ایک بار پھر یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان حکومت سازی کے وقت ڈھائی، ڈھائی سالہ اقتدار کا معاہدہ طے پایا تھا۔ اس مبینہ معاہدے کے مطابق پہلے ڈھائی سال تک وزیراعلیٰ پیپلز پارٹی کا ہوگا جبکہ باقی ڈھائی سال کے لیے یہ منصب مسلم لیگ (ن) کو منتقل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی پی اراکین کا وزیر اعلیٰ بلوچستان پر عدم اعتماد کا اظہار؟
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ اور مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ایسا معاہدہ واقعی موجود ہے۔ ان کے مطابق حکومت بننے سے قبل مرکز اور صوبے کی اہم شخصیات نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اقتدار دونوں جماعتوں کے درمیان ڈھائی، ڈھائی سال کے فارمولے کے تحت تقسیم ہوگا۔
سردار عبدالرحمان کھیتران نے مزید کہا کہ اگر یہ معاہدہ برقرار رہا تو اگست کے قریب اس فارمولے پر عملدرآمد کے امکانات موجود ہیں، تاہم یہ فیصلہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کرے گی کہ وزارتِ اعلیٰ کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتی نظر آتی ہے۔ پارٹی کے رہنماؤں اور اراکین اسمبلی نے مختلف میڈیا ٹاکس اور پریس کانفرنسوں میں واضح کیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان اقتدار کی تقسیم کا کوئی ڈھائی سالہ معاہدہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کو دونوں جماعتوں کی مکمل حمایت حاصل ہے اور موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت یعنی 5 سال مکمل کرے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بلوچستان کی سیاست میں اس طرح کی قیاس آرائیاں نئی بات نہیں ہیں۔ صوبے میں اتحادی حکومتوں کی روایت اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مفادات اکثر ایسے سوالات کو جنم دیتے رہتے ہیں۔ تاہم اس وقت زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو فوری طور پر کسی بڑے سیاسی بحران کا سامنا نہیں ہے کیونکہ اتحادی جماعتیں بظاہر ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے آصف علی زرداری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ناراض، ملاقات سے انکار
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی ایسا کوئی معاہدہ موجود ہوتا تو اس کے آثار اب تک واضح طور پر سامنے آ جاتے۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ سیاسی حلقے مستقبل کی پوزیشننگ کے لیے اس طرح کی بحث کو زندہ رکھنا چاہتے ہوں۔ بلوچستان میں سیاسی طاقت کا توازن اکثر مرکز کی سیاست سے بھی متاثر ہوتا ہے، اس لیے حتمی صورتحال کا انحصار بڑی حد تک مرکزی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔
فی الحال میر سرفراز بگٹی کی حکومت برقرار ہے اور اتحادی جماعتیں بظاہر اس کی حمایت کر رہی ہیں، تاہم بلوچستان کی سیاست کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل نہیں کہ آنے والے مہینوں میں حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔ یہی غیر یقینی کیفیت بلوچستان کی سیاست کو مسلسل خبروں اور قیاس آرائیوں کا مرکز بنائے رکھتی ہے۔














