آسٹریلیا نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی خواتین فٹبال ٹیم کے مزید 2 ارکان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔
جس کے بعد آسٹریلیا میں پناہ لینے والی کھلاڑیوں اور عملے کی مجموعی تعداد 7 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل 5 کھلاڑیوں کو بھی سیکیورٹی خدشات کے باعث پناہ دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کا آبنائے ہرمز میں ایرانی کشتیوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ، تہران کا مذاکرات سے انکار
آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک کے مطابق ایک خاتون کھلاڑی اور ٹیم کے معاون عملے کے ایک رکن نے سڈنی سے روانگی سے قبل آسٹریلیا میں رکنے اور پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
حکام نے سڈنی ایئرپورٹ پر ٹیم کے ارکان کو الگ الگ ملاقات کے دوران مترجمین کی موجودگی میں بغیر کسی دباؤ کے پناہ لینے کا اختیار دیا۔
Two further Iranian footballers have filed claims for asylum in Australia, following on from the group of five who were granted humanitarian visas on Monday.
The two footballers made the decision before they, along with the rest of the team, were due to travel from Brisbane to… pic.twitter.com/Tgv4IJPlyf
— 10 News (@10NewsAU) March 10, 2026
وزیر داخلہ کے مطابق پناہ مانگنے والے ساتوں افراد کو عارضی انسانی ہمدردی کے ویزے جاری کیے گئے ہیں، جو مستقبل میں آسٹریلیا کی مستقل شہریت حاصل کرنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق یہ ویزے 12 ماہ کے لیے مؤثر ہیں اور ان کی نوعیت یوکرین، فلسطین اور افغانستان کے پناہ گزینوں کو دیے گئے ویزوں جیسی ہے۔

ایرانی خواتین ٹیم آسٹریلیا میں ویمنز ایشین کپ میں شرکت کے لیے موجود تھی۔
کھلاڑیوں کی سلامتی کے خدشات اس وقت بڑھ گئے جب انہوں نے ایک میچ سے قبل قومی ترانہ گانے سے انکار کیا، جس پر ایرانی سرکاری ٹی وی نے انہیں ’غدار‘ قرار دیا تھا۔
ادھر ایرانی حکام نے ٹیم کے باقی ارکان کو وطن واپس آنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بلا خوف و خطر ایران لوٹ سکتے ہیں۔














