امریکا اور کینیڈا کی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ایجنٹس کے بڑھتے استعمال نے دفاتر کی ہیئرارکی بدل کر رکھ دی ہے۔ کمپنیوں میں اے آئی ایجنٹس نہ صرف روٹین کے کام انجام دے رہے ہیں بلکہ انسانی ملازمین کو کام تفویض کرنے اور ایک دوسرے کی نگرانی کرنے کے قابل بھی ہو گئے ہیں۔
کینیڈا کی کمپنی سنوفلیک میں انجینئرز اب بنیادی کاموں کے بجائے اعلیٰ سطح کے فیصلوں پر توجہ دے سکتے ہیں کیونکہ اے آئی ایجنٹس ڈیش بورڈز کی نگرانی، ڈیٹا اکٹھا کرنے اور کوڈنگ پروجیکٹس میں انسانی نگرانی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: حکومتِ پاکستان کا 1 ارب ڈالر اے آئی فنڈ، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع
کمپنی کے ہیڈ آف انجینئرنگ، قیصر حبیب کے مطابق روزانہ 3 سے 4 ایجنٹس کے ساتھ کام کرنا معمول بن چکا ہے، اور ایجنٹس پیچیدہ کام میں مدد فراہم کرتے ہیں، جبکہ انسانی ملازمین زیادہ تر اسٹریٹجک فیصلوں پر فوکس کرتے ہیں۔
اے آئی ایجنٹس اب نہ صرف کام انجام دے رہے ہیں بلکہ انسانی ملازمین کے لیے کام تفویض کر رہے ہیں اور بعض صورتوں میں ایک دوسرے کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں درمیانی سطح کے منیجرز پر دباؤ بڑھ گیا ہے، کیونکہ اے آئی روزانہ کے آپریشنل کام اور فیڈبیک فراہم کر رہی ہے، جو پہلے انسانی سپروائزر کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیجیٹل سینز اور اے آئی اسٹوڈیوز، چین کی فلمی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا انقلاب
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال سے ملازمتوں کے ڈھانچے میں تبدیلی آئی ہے اور ملازمین کو نئے اسکلز سیکھنے پر زور دینا ہوگا۔ بعض کمپنیاں اے آئی کو کام کی افادیت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ انسانی اعتماد اور رابطے برقرار رکھنا اب بھی ترجیح ہے۔














