مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے پنجاب حکومت نے ایندھن بچت اور کفایت شعاری کی نئی پالیسی جاری کر دی ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے سرکاری اور نجی اداروں کو سخت ہدایات دی گئی ہیں تاکہ توانائی اور ایندھن کے استعمال کو کم سے کم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: بینائی سے محروم افراد کے لیے بڑی خوشخبری، حکومت پنجاب کا خصوصی افراد کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تمام سرکاری گاڑیوں کے پٹرول پر 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ وزرا، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس، دیگر پولیس افسران اور ہوم سیکریٹری کے لیے پروٹوکول گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اب صرف ایک سیکیورٹی گاڑی کی اجازت ہو گی۔ اس کے علاوہ، پنجاب بھر میں نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین کو ورک فرام ہوم کی اجازت دے دی گئی ہے، اور صرف ضروری اور بنیادی عملہ ہی دفاتر میں بلایا جائے گا۔ سرکاری اداروں میں کام کا شیڈول تبدیل کر کے پیر سے جمعرات تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو مکمل چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔ تمام محکموں کے اجلاس اب آن لائن منعقد کیے جائیں گے، اور سرکاری ڈنرز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نجی اور کاروباری اداروں کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ ملازمین کو گھر سے کام کرانے کی پالیسی اپنائیں۔ دفاتر میں بجلی اور توانائی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے، ایئرکنڈیشنرز اور دیگر برقی آلات کا استعمال محدود کیا جائے، اور ٹرانسپورٹ کے استعمال کو کم سے کم رکھا جائے۔ غیر ضروری سفر اور ٹرانسپورٹ کے استعمال میں کمی لانے پر زور دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں ڈسٹرکٹ پٹرولیم مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں، جو پٹرول کی طلب و رسد کی نگرانی کریں گی۔ ضلع کی سطح پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی، اور صوبے بھر میں آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: حکومت پنجاب اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان معاملات طے پا گئے، مریم نواز کا اہم اعلان
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات علاقائی صورتحال کے پیش نظر اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ایندھن کی بچت کی جا سکے اور معاشی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ پرائیویٹ اداروں کو بھی ورک فرام ہوم کے اقدامات اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مجموعی طور پر توانائی کی کھپت کم ہو۔
یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہے، اور تمام متعلقہ اداروں کو اس پر عمل درآمد کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔














