یورپی یونین کی صدر خاتون صدر ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے نے یورپ پر بھاری اقتصادی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور درآمدی بلوں میں اربوں یورو کا اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے یورپی یونین کے رکن ممالک کی مسلح افواج کو ‘دہشت گرد تنظیمیں’ قرار دے دیا
ارزولا فان ڈئر لاین نے اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تنازعے کے آغاز سے گیس کی قیمتیں 50 فیصد اور تیل کی قیمتیں 27 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کے صرف 10 دنوں میں یورپی ٹیکس دہندگان کو فوسل فیول کی درآمدات پر اضافی 3 ارب یورو (3.48 ارب امریکی ڈالر) خرچ کرنا پڑے۔
بلوں کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات
انہوں نے بتایا کہ یورپی کمیشن توانائی کے بلوں کو کم کرنے کے لیے اضافی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے، جس میں گیس کی قیمتوں پر ممکنہ حد مقرر کرنے کا بھی امکان شامل ہے۔
ارزولا فان ڈئر لاین نے کہا کہ یورپی یونین نے گزشتہ سالوں میں اپنے فوسل فیول کی فراہمی کو متنوع بنایا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یورپ قیمتوں کے جھٹکوں سے محفوظ ہے، کیونکہ توانائی کے بازار عالمی سطح پر متحرک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ کے لیے بین الاقوامی پروازیں معطل، کئی ممالک کی فضائی حدود بند
انہوں نے بتایا کہ حالیہ اضافے نے یورپ میں توانائی کی قیمتوں پر جغرافیائی سیاسی تنازعات کے اثرات کو دوبارہ واضح کر دیا ہے، جیسا کہ 2022 میں روس، یوکرین تنازعے کے دوران ہوا تھا۔
توانائی کی قیمتیں کم کرنے کے لیے اقدامات
یورپی کمیشن جوہری توانائی کی پیداوار بڑھانے اور قیمتوں کو کم کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہا ہے۔ ارزولا فان ڈئر لاین نے منگل کو 200 ملین یورو (231.75 ملین ڈالر) کی یورپی یونین کی ضمانت کا اعلان کیا تاکہ نجی سرمایہ کاری کو جدید جوہری ٹیکنالوجیز میں فروغ دیا جاسکے۔
یورپی کمیشن کے توانائی کمشنر ڈین جورجنسن نے اراکین سے کہا کہ جہاں ممکن ہو توانائی پر عائد ٹیکس کم کیے جائیں، خاص طور پر بجلی پر، تاکہ صارفین کے بلوں میں کمی آئے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ جنگ کے بعد یورپ میں گیس کا نیا بحران
اس کے علاوہ کمیشن نے صاف توانائی کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی بھی متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد نجی سرمایہ کاری کو پاور گرڈز، صاف توانائی کی ٹیکنالوجیز اور توانائی کی بچت کے منصوبوں میں فروغ دینا ہے۔














