افغانستان کے صوبہ بدخشاں سے تعلق رکھنے والے ایک طالبان عالم کے پاکستان کے خلاف جہاد سے متعلق بیان نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مذکورہ عالم نے پاکستان کی حکومت کو ’کافر‘ قرار دیتے ہوئے اپنے پیروکاروں کو طالبان قیادت کے تحت لڑنے کی اپیل کی، جس پر مبصرین نے اسے مذہب کے نام پر انتہاپسندی کو ہوا دینے کی مثال قرار دیا ہے۔
افغانستان کے صوبہ بدخشاں کے ایک مذہبی عالم عبدالبصیر کی جانب سے پاکستان کے خلاف جہاد سے متعلق بیان سامنے آنے کے بعد اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ویدیو: عبدالبصیر، از عالمان بدخشان، میگوید که حکومت پاکستان «یک نظام کفری است» و جهاد در برابر آن فرض است.
پیش از این طاهر اشرفی، رییس شورای علمای پاکستان حملههای پاکستان بر افغانستان را جهاد خوانده بود.#طلوعنیوز pic.twitter.com/4axfino25v
— TOLOnews (@TOLOnews) March 11, 2026
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مذکورہ عالم پاکستان کی حکومت کو ’کافر‘ قرار دیتے ہوئے اپنے حامیوں کو طالبان قیادت کے تحت لڑنے کی ترغیب دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
اس بیان میں انہوں نے پاکستان کے قانونی نظام کو بھی ’غیر اسلامی قانون‘ قرار دیا اور کہا کہ پیروکاروں کو ’امیرالمومنین‘ کی قیادت میں لڑنا چاہیے۔ مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات مذہبی تعلیمات کو سیاسی مقاصد اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی مثال سمجھے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تقاریر خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب افغانستان کی موجودہ حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ اس کی سرزمین پڑوسی ممالک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
ناقدین کے مطابق افغان سرزمین سے اس نوعیت کی تقاریر سامنے آنا ان دعوؤں پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔
مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض مذہبی خطبات میں عوام کو پاکستان کے عوام اور حکومت کے درمیان فرق کرنے کا پیغام دیتے ہوئے حکومت کے خلاف جہاد کی بات کی جاتی ہے، جسے انتہاپسند بیانیے کی ایک حکمت عملی سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ افغانستان میں بعض حلقوں میں مذہبی خطابات کو سیاسی وفاداری اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک تشویشناک رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔














