پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی صحت سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے پر شدید تشویش اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان صحت مند ہیں، اڈیالہ جیل میں معائنے کی رپورٹ جاری
پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت کا فیصلہ نہ صرف عمران خان کی صحت اور بنیادی انسانی و قانونی حقوق کے حوالے سے افسوسناک ہے بلکہ اس سے ملک میں سیاسی انتقام اور دوہرے معیار کے تاثر کو بھی تقویت ملتی ہے۔
بیان کے مطابق عدالت نے عمران خان کی 3 اہم درخواستیں مسترد کر دیں جن میں انہیں الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے، اہلخانہ سے باقاعدہ ملاقات کی اجازت دینے اور میڈیکل بورڈ میں ان کے ذاتی معالجین کو شامل کرنے کی درخواستیں شامل تھیں۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ عمران خان کو اپنے معالجین سے براہِ راست ملاقات کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ جب تک عمران خان کے ذاتی ڈاکٹروں کو میڈیکل بورڈ میں شامل نہیں کیا جاتا اس وقت تک کوئی بھی میڈیکل بورڈ قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیے: پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کا اجلاس، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے، عمران خان کی صحت پر اظہار تشویش
پارٹی کے مطابق ذاتی معالجین کی شمولیت طبی شفافیت اور مریض کے بنیادی حق کے لیے ضروری ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر اپنے خاندان سے ملاقات کی مکمل اور باقاعدہ اجازت دی جانی چاہیے کیونکہ زیر حراست افراد کے لیے اہلِ خانہ سے رابطہ بنیادی انسانی اور قانونی حق ہے۔
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کی صحت کے پیش نظر انہیں الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنا ضروری ہے تاکہ انہیں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں جو جیل میں ممکن نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس معاملے میں نواز شریف کے کیس سے مختلف رویہ اختیار کیا جا رہا ہے کیونکہ انہیں علاج کے لیے بیرون ملک جانے اور ذاتی ڈاکٹروں تک مکمل رسائی کی اجازت دی گئی تھی۔
پارٹی کا کہنا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں شدید کمی کی اطلاعات ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے معالجین تک رسائی نہیں دی جا رہی، جو بقول پی ٹی آئی انصاف کے نظام میں تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فیصلہ عدلیہ پر بڑھتے سیاسی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے اور حالیہ آئینی ترامیم کے بعد عدالتی آزادی کے حوالے سے خدشات کو بڑھاتا ہے۔
پی ٹی آئی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی اور عمران خان کے بنیادی انسانی حقوق اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔ پارٹی نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر آواز بلند کریں۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس ہر صورت بنے گی، صحت سے متعلق فیصلے فیملی کرے گی، شفیع جان
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کی صحت اور سلامتی پارٹی کے لیے اولین ترجیح ہے اور اسے کسی بھی صورت سیاسی انتقام کا حصہ نہیں بننے دیا جائے گا۔














