پنجاب حکومت نے پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) روڈ میپ تیار کر لیا ہے جس کی منظوری وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دے دی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جنگلات کا تحفظ، پہلی مرتبہ اے آئی کا استعمال اور جدید سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا آغاز
اس روڈ میپ کے تحت پنجاب کو سنہ 2029 تک جنوبی ایشیا کا سب سے نمایاں اے آئی صوبہ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی سربراہی میں پہلا اے آئی ڈیلیوری یونٹ قائم کیا جائے گا جبکہ وہ خود اس یونٹ اور اسپیشل پروجیکٹ ٹیم کی چیئرپرسن ہوں گی۔
صوبائی مشیر برائے اے آئی علی ڈار نے وزیراعلیٰ کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 3 سال کے دوران پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جی ڈی پی میں 5 سے 10 فیصد اضافہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں 10 سے 20 ارب ڈالر تک اضافہ متوقع ہے۔
اے آئی روڈ میپ کے بنیادی ستون
اے آئی انفراسٹرکچر، اے آئی ایڈمن، اے آئی سٹیزن، جاب سکلز، اکانومی اور اے آئی گورننس۔
کراس فنکشنل ٹیمیں: اسپیشل پروجیکٹ، ڈیٹا، اسٹریٹجک آپریشن اور اسٹریٹجک کمیونیکیشن۔
اے آئی ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ جس میں اعلیٰ ماہرین شامل ہوں گے۔
اہم شیڈولز اور لانچز
مارچ 2026: پنجاب اے آئی روڈ میپ مینی فیسٹو لانچ۔
جون 2026: دنیا کا پہلا اے آئی ڈیلیوری یونٹ بین الاقوامی سطح پر لانچ۔
جولائی 2026: اے آئی گورننس پالیسی لانچ۔
اگست 2026: یوم آزادی کے موقع پر گلوبل ٹیک پارٹنرشپ اور سٹیزن پورٹل لانچ۔
ستمبر 2026: ہیلتھ بورڈ ایپ لانچ۔
اکتوبر 2026: سموگ پروگرام اور سموگ بوٹ کو اے آئی سے منسلک۔
مزید پڑھیے: پنجاب کابینہ کے تمام وزراء مصنوعی ذہانت کی ٹریننگ لیں گے؟
نومبر 2026: کسان AI بورڈ لانچ جس میں ایگریکلچر انٹرنز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
اسکولوں میں اے آئی سلیبس
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ہدایت کی کہ پنجاب کے 100 اسکولوں میں اے آئی سلیبس نافذ کیا جائے اور اپریل میں مزید 155 اسکولوں میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تعلیم دی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جائے گا اور حکومت کے ہر شعبے کی استعداد کار میں اضافہ ممکن ہوگا۔
مزید پڑھیں: علی ڈار وزیراعلیٰ پنجاب کے معاون خصوصی برائے آرٹیفیشل انٹیلیجنس تعینات، نوٹیفکیشن جاری
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود پنجاب اے آئی روڈ میپ پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گی اور اس منصوبے کے تحت نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ممکن ہوگا جس سے صوبے میں ٹیکنالوجی اور جدید تعلیم کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا جائے گا۔














