بنگلہ دیش پارلیمنٹ: صدر کے خطاب پر اپوزیشن کا واک آؤٹ، وزیرِ داخلہ نے تضاد قرار دیدیا

جمعہ 13 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کی 13ویں پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس میں صدر کے خطاب کے دوران بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی اور اس کے اتحادی ارکانِ پارلیمنٹ نے احتجاج کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔

اسپیکر حافظ الدین احمد کی جانب سے صدر محمد شہاب الدین کو جاتیہ سنگساد بھبن میں ایوان سے خطاب کی دعوت دینے کے بعد جماعتِ اسلامی اور نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ارکان احتجاجاً کھڑے ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی 13ویں پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس، حافظ الدین احمد بلا مقابلہ اسپیکر منتخب

اپوزیشن کے ارکان کو ایوان کے اندر پلے کارڈز اٹھائے دیکھا گیا، جن میں سے ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا ’جولائی کے معاملے پر غداری قبول نہیں۔‘

اسپیکر نے بار بار احتجاج کرنے والے ارکان سے ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

تاہم جیسے ہی صدر نے اپنا خطاب شروع کیا، اپوزیشن ارکان نے احتجاج جاری رکھا جس کے باعث ایوان میں شور شرابہ کی صورتحال پیدا ہوئی جو بالآخر اپوزیشن اراکین کے اجلاس سے واک آؤٹ پر منتج ہوئی۔

جماعت اسلامی کے قائدِ حزبِ اختلاف شفیق الرحمان اور اپوزیشن کے چیف وہپ ناہید اسلام سمیت اتحادی اپوزیشن جماعتوں کے تمام ارکان واک آؤٹ میں شریک ہوئے۔

احتجاج کے باوجود صدر محمد شہاب الدین نے اپنا خطاب جاری رکھا۔

وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے صدر کے خطاب پر احتجاج کرکے متضاد طرزِ عمل اختیار کیا۔

’۔۔۔کیونکہ یہی جماعتیں اس سے پہلے اسی صدر سے ملاقاتیں کر چکی ہیں اور گزشتہ سال عوامی بغاوت کے بعد بننے والی سیاسی صورتحال میں انہی کے سامنے حلف بھی اٹھا چکی ہیں۔‘

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش حکومت پارلیمنٹ سے مثبت سیاسی کلچر فروغ دینا چاہتی ہے، وزیر داخلہ صلاح الدین احمد

جمعرات کو 13ویں قومی پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے پہلے دن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیئربی این پی رہنما نے سوال اٹھایا کہ اپوزیشن کو صدرمحمد شہاب الدین کے خطاب پراعتراض کیوں ہے۔

احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ اپوزیشن کو وضاحت کرنی چاہیے کہ اب انہیں اعتراض کیوں ہو رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ5 اور6  اگست کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہی صدر سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اورعبوری انتظامیہ کے اراکین نے انہی کے سامنے حلف اٹھایا تھا۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ پارلیمانی قواعد کے تحت اپوزیشن کو واک آؤٹ کا حق حاصل ہے اور اس طرح کے اقدامات غیر معمولی نہیں ہوتے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، وزیر قانون

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن آئندہ اجلاسوں میں واپس آ کر پارلیمانی کارروائی میں حصہ لے گی۔

نئی پارلیمنٹ سے حکومت کی توقعات کے بارے میں سوال پر صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکمران بی این پی چاہتی ہے کہ ایوان ایک بامعنی فورم کے طور پر کام کرے جہاں تمام قومی مسائل پر بحث ہو اور مکالمے کے ذریعے ان کا حل نکالا جائے۔

وزیرِ داخلہ نے کہا کہ طویل آمریت مخالف تحریک کے بعد قوم تقریباً 2 دہائیوں سے جمہوریت کی بحالی کی منتظر تھی، اور نئی پارلیمنٹ ایک نئے جمہوری سفر کا آغاز ہے۔

ان کے مطابق، پارلیمنٹ کا اگلا اجلاس اتوار کو صبح 11 بجے ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp