امریکا اسرائیل اور ایران کے مابین جاری جنگ کے تناظر میں سعودی عرب نے ایک نیا اقدام شروع کیا ہے جس کے تحت خلیجِ عرب کی بندرگاہوں سے ہونیوالی بحری تجارت کو مملکت کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کی جانب منتقل کیا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزیرِ ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے لاجسٹکس کوریڈورز انیشی ایٹو کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر، پاکستان کی ثالثی پالیسی جاری
اس موقع پر زکوٰۃ، ٹیکس اور کسٹمز اتھارٹی کے گورنر سہیل ابانمی اور سعودی پورٹس اتھارٹی کے صدر سلیمان المزورا ست اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
یہ اس اقدام کے تحت خصوصی آپریشنل کوریڈورز قائم کیے جائیں گے جہاں خلیج میں واقع مملکت کے مشرقی علاقے اور دیگر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی بندرگاہوں سے منتقل کیے گئے کنٹینرز اور سامان کو وصول کیا جائے گا۔
#SaudiArabia is launching its Logistics Corridors Initiative to counter shipping delays in the Persian Gulf. By rerouting cargo from western ports via land to the GCC, MAWANI aims to maintain trade velocity despite the #IranIsraelWar. pic.twitter.com/UzxM31ywIw
— Shafek Koreshe (@shafeKoreshe) March 12, 2026
یہ سامان بعد ازاں جدہ اسلامک پورٹ اور بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع دیگر سعودی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچایا جائے گا۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ صالح الجاسر نے کہا کہ سعودی عرب عالمی تجارتی راستوں کے ذریعے سامان کی بلاتعطل ترسیل اور سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب نے شَیبہ آئل فیلڈ کی جانب بڑھنے والے 9 ڈرونز تباہ کردیے
ان کے مطابق جدہ اسلامک پورٹ اور مغربی ساحل کی دیگر بندرگاہیں پہلے ہی خلیج سے آنے والی ری ڈائریکٹڈ شپمنٹس کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور خلیجی سامان کو علاقائی اور عالمی منڈیوں سے جوڑ رہی ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری تجارت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

ایران پہلے بھی جنگ کی صورت میں اس آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے، جو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے اور جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 5واں حصہ گزرتا ہے۔
گزشتہ ماہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران نے اس آبی راستے سے گزرنے والی جہاز رانی کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان ایمبیسی نے سعودی عرب میں پھنسے 91 پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی
جس کے نتیجے میں مال برداری کے نرخ تیزی سے بڑھ گئے ہیں اور شپنگ کمپنیوں کو متبادل راستے تلاش کرنا پڑ رہے ہیں۔
سعودی عرب کی بحیرۂ احمر کی بندرگاہیں اس صورتحال میں ایک قابلِ عمل متبادل فراہم کرتی ہیں، جو خلیجی سامان کو آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی سہولت دے سکتی ہیں۔














