وفاقی دارالحکومت میں برطانوی ہائی کمیشن اور ‘آکسفورڈ پالیسی مینجمنٹ’ کے اشتراک سے جمعرات کو ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں نوجوان اختراع کاروں اور ماحولیاتی کارکنوں نے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی جدید حل پیش کیے۔
یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس (Youth Climate Catalysts) کے عنوان سے منعقدہ اس تقریب کا مقصد ‘پاک-برطانیہ گرین کومپیکٹ’ کے تحت نوجوانوں کی زیرِ قیادت موسمیاتی اقدامات کو فروغ دینا تھا۔ اس پروگرام میں نوجوان کاروباری افراد، ماحولیاتی ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی تاکہ پاکستان کے لیے موسمیاتی طور پر مستحکم مستقبل کی خاطر اختراع، سفارت کاری اور کمیونٹی کی سطح پر کیے جانے والے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
تقریب میں لگائے گئے انوویشن سوق (Innovation Souq) میں نوجوانوں نے قابلِ تجدید توانائی کے ماڈلز، سرکلر اکانومی اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی موسمیاتی ایپلی کیشنز کے منصوبے پیش کیے۔
برطانیہ کی ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر اینا بیلنس نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی نوجوان موسمیاتی تبدیلیوں کے حل تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ برطانیہ ان کی قیادت میں سرمایہ کاری کر رہا ہے کیونکہ ایک سرسبز اور مضبوط پاکستان کی بنیاد یہی نسل اپنی اختراع اور کمیونٹی کے جذبے سے رکھے گی۔
وفاقی سیکرٹری وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، عائشہ حمیرہ چوہدری نے نوجوانوں کی شمولیت کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کام ان نوجوانوں کے اقدامات کو بہتر پالیسیوں کے ذریعے سہارا دینا ہے۔
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ چونکہ پاکستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ماہرین کے مطابق طویل مدتی موسمیاتی حل کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا انتہائی ضروری ہے۔













