دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

ہفتہ 14 مارچ 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات میں سیاحوں اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز سمیت متعدد افراد کو ایرانی حملوں یا ان سے ہونے والے نقصان سے متعلق ڈیجیٹل مواد اپنے پاس رکھنے، شیئر کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ڈیٹینڈ ان دبئی نامی ایک تنظیم کے مطابق امارات میں اب تک 21 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں جعلی نوکری کے اشتہارات دینے والے 230 سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند

تنظیم کی چیف ایگزیکٹو اور ڈیو پروسیس انٹرنیشنل کی سربراہ رادھا اسٹرلنگ کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ الزامات کاغذوں میں سنگین دکھائی دیتے ہیں۔

’۔۔۔لیکن حقیقت میں مبینہ عمل اتنا معمولی بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص صرف ایسا ویڈیو شیئر کر دے یا اس پر تبصرہ کر دے جو پہلے ہی آن لائن گردش کر رہا ہو۔‘

ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سائبر کرائم قوانین کے تحت نہ صرف اصل مواد پوسٹ کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ بن سکتا ہے بلکہ اس ویڈیو کو دوبارہ شیئر کرنے، دوبارہ پوسٹ کرنے یا اس پر تبصرہ کرنے والوں کو بھی مجرم قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح ایک ہی ویڈیو درجنوں افراد کے خلاف فوجداری مقدمات کا باعث بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات کا ایران پر ممکنہ امریکی حملے میں تعاون سے انکار

ان قوانین کے تحت سزا میں 2 سال تک قید، تقریباً 5 ہزار500  سے 55  ہزار ڈالر تک جرمانہ اور غیر ملکی شہریوں کی صورت میں ملک بدری بھی شامل ہو سکتی ہے۔

رادھا اسٹرلنگ کا کہنا ہے کہ غیر ملکیوں کو سمجھنا چاہیے کہ جو سوشل میڈیا سرگرمی دنیا کے دیگر ممالک میں معمول سمجھی جاتی ہے، وہ متحدہ عرب امارات میں گرفتاری کا باعث بن سکتی ہے۔

بعض حالات میں حقائق واضح ہونے سے پہلے ہی افراد کو قومی سلامتی کے مشتبہ ملزم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

دریں اثنا 60  سالہ ایک برطانوی سیاح پر بھی سائبر کرائم قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے شہر کے اوپر ایرانی میزائلوں کی ویڈیو بنائی۔

اس معاملے پر برطانوی وزارت خارجہ نے بتایا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ایک برطانوی شہری کی حراست کے بعد مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔

ادھر برطانیہ میں تعینات اماراتی سفیر نے برطانوی ریڈیو اسٹیشن کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات ایک محفوظ ملک ہے اور وہاں موجود قواعد و ضوابط لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ویڈیو بنانے والے افراد پر گرنے والا ملبہ بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرلی

رادھا اسٹرلنگ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد قطر میں بھی اسی نوعیت کے قوانین کے تحت 200  سے زائد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے مبینہ طور پر ایران کی جانب اب تک 1,800  ڈرونز اور میزائل امارات کی طرف فائر کیے جا چکے ہیں۔

حکام کے مطابق امارات، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے 6 افراد ہلاک جبکہ 141 افراد معمولی سے درمیانی نوعیت کے زخمی ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آسٹریلوی تاجر چینی جاسوسوں کو معلومات دینے کے جرم میں قصوروار قرار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے