چیئرمین متحدہ قومی موومنٹ پاکستان خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ اعتماد میں کمی آئی ہے تاہم ایم کیو ایم کی اصل طاقت عوام ہیں نہ کہ ایوانوں میں بیٹھے لوگ۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مردم شماری میں ایم کیو ایم نے کراچی کے تقریباً 70 لاکھ افراد کو شمار کرانے میں کردار ادا کیا، ان کے مطابق ماضی میں سندھ کے شہری علاقوں سے گورنر بننے کی روایت رہی ہے اور اس حوالے سے حکومت سے بات بھی کی گئی ہے۔
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے تحت سالانہ امدادی پروگرام کی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے شہر کے مسائل، حکومت سے تعلقات اور مختلف قومی امور پر اظہارِ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر سندھ کی تبدیلی: ایم کیو ایم کا سخت ردعمل، حکومت چھوڑنے کا عندیہ
گزشتہ 70 برسوں سے ملکی معیشت کو سہارا دینے والا شہر کراچی ملک کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے تاہم اس کے باوجود یہاں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے بقول یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے کہ ملک کے سب سے امیر شہر کا شمار اب دنیا کے بدترین رہنے والے شہروں میں ہونے لگا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے اندر ہی 2 مختلف طبقات بنادیے گئے ہیں اور شہری علاقوں کو ان کا حق نہیں مل رہا، ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے وسائل سے موٹر ویز تعمیر کی جاتی ہیں مگر کراچی اور حیدرآباد کے درمیان کوئی موٹر وے موجود نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ کی گورنر شپ سے محروم ہونے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کیا سوچ رہی ہے؟
چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے شہر میں ٹریفک کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہیوی ٹریفک شہر کے بیچ سے گزرتا ہے جس کے باعث آئے روز حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عید سے قبل کراچی کے مسائل کے حل کے حوالے سے واضح مؤقف سامنے لایا جائے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہر میں امن و امان اور زمینوں پر قبضوں کے مسائل بھی سنگین ہو چکے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان معاملات پر قومی سطح پر خاموش اتفاق رائے موجود ہے۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت کی نہال ہاشمی کو گورنر سندھ تعینات کرنے کی منظوری، کامران ٹیسوری کا فون، مبارکباد
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس شہر میں تعینات سپاہی بھی اکثر باہر سے آتے ہیں اور جرائم میں ملوث عناصر کا تعلق بھی شہرسے نہیں ہوتا۔
تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ایم کیو ایم نے اعلان کیا تھا کہ اگر تعلیم کی وزارت ملی تو تعلیمی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں صدرِ مملکت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ کراچی میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔













