امریکا کی ریاست ایریزونا میں واقع مشہور میٹیور کریٹر آج بھی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے تک تحقیق کے باوجود حالیہ سائنسی مطالعات میں اس عظیم شہابی گڑھے کے اثرات اور اہمیت کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:شہاب ثاقب نے اچانک اپنے مدار میں الٹا گھومنا شروع کردیا، ماہرین فلکیات حیران
ایریزونا میں واقع میٹیور کریٹر کو دنیا کا سب سے محفوظ شہابی گڑھا قرار دیا جاتا ہے، جو تقریباً 50 ہزار سال قبل ایک بڑے شہابی پتھر کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں بنا تھا۔ یہ گڑھا تقریباً 700 فٹ گہرا، 4 ہزار فٹ سے زیادہ چوڑا اور لگ بھگ ڈھائی میل کے دائرے پر محیط ہے۔
ABD'nin Arizona eyaletinde 50 bin yıl önce meteor çarpması sonucu oluşan Barringer Krateripic.twitter.com/nYYJMVbeIQ
— tanık (@tanik_tr) January 16, 2026
سائنس دانوں کے مطابق اس مقام پر ایک صدی سے زائد عرصے سے تحقیق جاری ہے، تاہم 2025 اور 2026 میں ہونے والی نئی تحقیقات اس شہابی ٹکراؤ کے اثرات کے بارے میں مزید حیران کن حقائق سامنے لائی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مقامات زمین سے ٹکرانے والے خلائی اجسام کے اثرات کو سمجھنے کے لیے ایک قدرتی تجربہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔

سائنس دان ڈین ڈورڈا کے مطابق یہ گڑھا اپنی ساخت اور واضح شکل کی وجہ سے تحقیق کے لیے انتہائی موزوں مقام ہے، جہاں سے زمین پر شہابی ٹکراؤ کے عمل کے بارے میں اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سورج کی چمک سے دریافت ہونے والا شہاب ثاقب زمین کی جانب بڑھ رہا ہے، ماہرین
اس تحقیق کے فروغ کے لیے بیرنجر کریٹر کمپنی نے طلبہ اور نوجوان محققین کے لیے خصوصی تحقیقی گرانٹس بھی متعارف کرائی ہیں تاکہ وہ زمین پر موجود شہابی گڑھوں کا مزید تفصیلی مطالعہ کر سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہابی ٹکراؤ ایک انتہائی طاقتور ارضیاتی واقعہ ہوتا ہے جو بہت کم وقت میں وقوع پذیر ہوتا ہے اور اس کی شدت بعض اوقات ایٹمی دھماکوں سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ سائنس دان زمین کے اندر موجود غیر معمولی ساختوں کو جانچنے کے لیے مختلف سائنسی طریقے استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں زمین پر تقریباً 200 شہابی گڑھوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان مقامات پر ہونے والی تحقیق مختلف سائنسی شعبوں کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔













