برلن سے ڈونا فرگوسن اور فلپ اولٹرمن کی رپورٹ کے مطابق، جرمن فلسفی اور ماہرِ سماجیات یورگن ہابرماس کا انتقال 96 سال کی عمر میں ہوا، جس کی تصدیق ان کے پبلشر نے کی۔
ہابرماس بعد از جنگ جرمنی کی فکری تاریخ کے اہم ترین شخصیات میں شمار ہوتے تھے اور وہ سیاسی اتفاق رائے قائم کرنے کے اپنے نظریے کے لیے مشہور تھے۔ انہیں 20ویں صدی کے سب سے اثرورسوخ رکھنے والے فلسفیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور انہوں نے یورپی اتحاد اور یورپی یونین کی تشکیل کے حوالے سے فکری مکالمے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے: سیاسی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ملک میں قومی اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے، مولانا فضل الرحمان
حالانکہ وہ نیو مارکسسٹ فرانکفرٹ اسکول سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا کیریئر 7 دہائیوں پر محیط رہا اور انہوں نے سماجی نظریہ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں پر توجہ مرکوز کی۔ ان کا ماننا تھا کہ عوامی رائے کی تشکیل جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے، اسی وجہ سے وہ عمر رسیدہ ہونے کے باوجود کتابیں اور اخباری مضامین لکھتے رہے۔
ہابرماس کی تازہ ترین کتاب ‘Things Needed to Get Better’ دسمبر 2025 میں شائع ہوئی، جس میں انہوں نے کہا کہ حالات کے بارے میں مایوسی کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے اور موجودہ بحرانوں کا مقابلہ جارحانہ انداز میں ممکن ہے۔
یورگن ہابرماس 18 جون 1929 کو ڈسلڈورف میں ایک متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن میں جراحی کے بعد ان کے بولنے میں دقت پیدا ہوئی، جسے اکثر ان کے کمیونیکیشن کے نظریے پر اثر انداز ہونے والا سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شبِ عُرسِ رومیؒ: فکر، عشق اور ثقافتی شعور کی ایک روشن شام
انہوں نے یونیورسٹی آف بون سے تعلیم حاصل کی اور 1950 کی دہائی میں صحافت اور اکیڈمیا میں ابھرے۔ وہ فرانکفرٹ اسکول کی دوسری نسل کے مفکرین میں شامل تھے، جنہوں نے مارکسسٹ سوچ کے اہم فلاسفہ تھیوڈور ایڈورنو اور میکس ہورکھیمر کے نظریات کو آگے بڑھایا۔
1980 کی دہائی میں ہابرماس ہسٹری کرستک میں بھی فعال رہے، جہاں انہوں نے نازی جرمنی کے مظالم کی شدت کم کرکے پیش کرنے کے خلاف مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ ماضی سے سبق سیکھنا جرمنی کی شناخت کا حصہ ہونا چاہیے۔
ان کے انتقال کے بعد جرمنی اور دنیا بھر میں فکری حلقوں نے ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔













