قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سرفراز احمد نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا، جس کے ساتھ ان کے قریباً 2 دہائی پر محیط شاندار کیریئر کا اختتام ہوا۔
کراچی میں پیدا ہونے والے وکٹ کیپر بیٹسمین نے تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کی، جن میں 54 ٹیسٹ میچز، 117 ایک روزہ میچز اور 61 ٹی20 میچز شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: سرفراز احمد کی دلچسپ پوڈکاسٹ: شادی، لفٹ اور بھابھی کے مزے دار لمحات
انہوں نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 6 ہزار 164 رنز بنائے، جن میں 6 سینچریاں اور 35 نصف سینچریاں شامل ہیں۔
سرفراز احمد نے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 100 بین الاقوامی میچز میں کپتانی کی (50 ایک روزہ، 37 ٹی 20 اور 13 ٹیسٹ) اور اپنی قیادت میں پاکستان کو ٹی20 رینکنگ میں نمبر ایک تک پہنچایا۔
ان کے دورِ قیادت میں پاکستان نے مسلسل 11 ٹی20 سیریز جیت کر عالمی ریکارڈ قائم کیا اور 6 سیریز میں کلین سویپ کیا، جن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 2016 اور 2018، سری لنکا کے خلاف 2017، آسٹریلیا کے خلاف 2018، نیوزی لینڈ کے خلاف 2018 اور اسکاٹ لینڈ کے خلاف 2018 میں یہ کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
سرفراز احمد کے کپتانی دور میں کئی مستقبل کے اسٹار کھلاڑی ابھرے، جن میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، امام الحق، فہیم اشرف، فخر زمان اور شاداب خان شامل ہیں، جنہیں انہوں نے ان کے بین الاقوامی کیریئر کے آغاز میں بھرپور سپورٹ فراہم کی۔
سرفراز احمد نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں تاریخی فتح دلائی، جب انہوں نے انگلینڈ کے اوول گراؤنڈ میں فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے ہرایا۔
اس کامیابی کے ساتھ سرفراز احمد پہلے پاکستانی کپتان بنے جنہوں نے چیمپیئنز ٹرافی جیتی اور وہ واحد کپتان ہیں جنہوں نے انڈر 19 اور سینیئر سطح پر دونوں آئی سی سی ٹائٹلز جیتے۔ 2006 میں انہوں نے سری لنکا میں انڈر 19 ورلڈ کپ جیت کر بھارت کو 38 رنز سے ہرایا تھا۔
ان کی خدمات اور چیمپیئنز ٹرافی کی فتح کے اعتراف میں سرفراز احمد کو 2018 میں پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا، جس کے ساتھ وہ سب سے کم عمر پاکستانی کپتان بن گئے جنہیں یہ اعزاز ملا۔
انفرادی ریکارڈز میں سرفراز احمد نے 2019 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ میں 10 کیچز پکڑ کر ریکارڈ قائم کیا۔ وہ آج تک واحد پاکستانی وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں جنہوں نے لارڈز میں ایک روزہ میچ میں انگلینڈ کے خلاف سینچری اسکور کی۔
انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر اپنے بیان میں سرفراز احمد نے کہاکہ پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ 2006 میں انڈر 19 ٹیم کو عالمی ٹائٹل دلانے سے لے کر 2017 میں آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی جیتنے تک ہر لمحہ خاص رہا۔
انہوں نے کہاکہ میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں، کوچز، خاندان اور شائقین کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے کیریئر کے دوران ہمیشہ تعاون کیا۔
مزید پڑھیں: انڈر 19 ایشیا کپ میں فتح، ٹیم مینٹور سرفراز احمد بھی بول پڑے
سرفراز احمد نے کہاکہ تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی کپتانی کرنا ایک خواب کی تعبیر تھی۔ میں ہمیشہ بے خوف کرکٹ کھیلنے اور متحد ٹیم بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ بابر اعظم، شاہین آفریدی، حسن علی اور دیگر کھلاڑیوں کو میری قیادت میں میچ ونر بنتے دیکھنا میرے لیے سب سے بڑی کامیابی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے برسوں سے مجھ پر اعتماد کیا۔ پاکستان کرکٹ ہمیشہ میرے دل کے قریب رہی ہے اور میں ہر ممکن طریقے سے اس کھیل کی حمایت جاری رکھوں گا۔














