مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیو مواد کے تیزی سے پھیلاؤ نے انسانی توجہ، سوچنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی پر گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ مسلسل ڈیجیٹل مصروفیت کے باعث انسان کی توجہ کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے اور اگر اس رجحان کو قابو نہ کیا گیا تو انسانی ذہنی صلاحیتوں میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی چیٹ بوٹ ’اپنی والدہ‘ کو یاد کرکے جذباتی، صارفین دنگ
ماہرین کے مطابق جدید دور میں انسان کی توجہ کا اوسط دورانیہ تقریباً 8 سیکنڈ رہ گیا ہے، جو ایک سنہری مچھلی کے 9 سیکنڈ کے دورانیہ سے بھی کم بتایا جاتا ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال، مختصر ویڈیوز دیکھنے اور بیک وقت کئی کام کرنے کی عادت نے انسان کی توجہ، سیکھنے کی صلاحیت اور فیصلہ سازی کو متاثر کیا ہے۔

نیویارک یونیورسٹی کے اسٹرن اسکول آف بزنس میں اخلاقی قیادت کے پروفیسر جوناتھن ہائیڈٹ اور دیگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ یہ رجحان مزید تیز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی نے انسانی توجہ کو منتشر کر دیا ہے اور سماجی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اے آئی سمٹ میں روبوٹ ڈاگ تنازع، بھارت کی تحقیق اور جدت پر سوالیہ نشان
امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن سے وابستہ ماہرِ نفسیات گلوریا مارک کا کہنا ہے کہ جو افراد بیک وقت کئی کام کرنے والے ماحول میں کام کرتے ہیں، ان کی کارکردگی نسبتاً سست ہو جاتی ہے اور غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ان کے مطابق ہر بار جب انسان ایک کام سے دوسرے کام کی طرف توجہ منتقل کرتا ہے تو اسے ذہنی طور پر ایک اضافی قیمت چکانا پڑتی ہے، جسے ماہرین ’سوئچ کاسٹ‘ کہتے ہیں۔
یہ مسئلہ خاص طور پر ان پیشوں میں زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے جہاں معمولی غلطی بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، جیسے ڈاکٹر، نرسیں یا پائلٹ۔ ماہرین کے مطابق مسلسل توجہ کی کمی ایسے شعبوں میں کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

پروفیسر جوناتھن ہائیڈٹ نے اپنی کتاب میں خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور مختصر ویڈیو مواد انسانی ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اگر توجہ اور ارتکاز کی صلاحیت کو استعمال نہ کیا جائے تو انسانی دماغ کمزور پڑ سکتا ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت کے نظاموں کو باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ بہتر انداز میں توجہ مرکوز کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے خاص طور پر بچوں میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی، بچوں کو آزادانہ کھیلنے کے مواقع دینا اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا انسانی توجہ اور ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں ذہنی توازن اور سماجی ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو انسان کی فکری اور ذہنی صلاحیتوں پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔














