پینٹاگون نے وینزویلا کے صدر مادورو کے خلاف کارروائی میں کس اے آئی ماڈل کی مدد لی؟

ہفتہ 14 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فوج نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے والی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے ماڈل کلاڈ کا استعمال کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی کلاڈ کا کمال، سال کا کام گھنٹے میں، گوگل انجینیئرنگ ٹیم بھی حیران

امریکی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کلاڈ کو صرف منصوبہ بندی کے مراحل میں نہیں بلکہ خود کارروائی کے دوران بھی استعمال کیا گیا۔ تاہم اس کا درست کردار واضح نہیں کیا گیا۔

امریکی فوج ماضی میں بھی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو سیٹلائٹ تصاویر اور خفیہ معلومات کے فوری تجزیے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

سان فرانسسکو میں قائم AI لیب  انتھروپک جو کلاڈ کی خالق ہے اپنی پالیسیوں میں واضح طور پر ٹیکنالوجی کو تشدد، ہتھیاروں کی تیاری یا نگرانی میں استعمال کرنے کی ممانعت کرتی ہے۔ کارروائی کے دوران کوئی امریکی ہلاک نہیں ہوا تاہم 3 جنوری کو درجنوں وینزویلا اور کیوبا کے فوجی اور سیکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔

انتھروپک کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے کہ کلاڈ یا کسی اور اے آئی ماڈل کو کسی مخصوص یا خفیہ آپریشن میں استعمال کیا گیا یا نہیں۔

مزید پڑھیے: انتھراپک کا اپنے جدید ماڈل کلاڈ سونیٹ 4.5 جاری، دیگر اے آئی ماڈلز کو چیلنج

انہوں نے کہا کہ کمپنی کی پالیسی کے مطابق نجی یا سرکاری شعبے میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کمپنی کے ضوابط کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

انتھروپک کے حریف اداروں اوہن اے آئی، گوگل اور ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی کے بھی پینٹاگون کے ساتھ معاہدے موجود ہیں جن کے تحت انہیں اپنے ماڈلز تک رسائی دی گئی ہے۔ تاہم کلاڈ کو پالینٹیر ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے ان خفیہ پلیٹ فارمز پر تعینات کیا گیا ہے جو امریکی فوج کے حساس ترین کاموں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمپنی حالیہ ہفتوں میں اے آئی کے محفوظ استعمال پر زور دیتی رہی ہے اور خود کو اس شعبے میں ذمہ دار متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

کمپنی کے سی ای او ڈاریو امودی اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ بے قابو مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: چیٹ بوٹ کلاڈ ہیکرز کے ہاتھوں استعمال، ڈیٹا چوری اور بلیک میلنگ

رپورٹس کے مطابق انتھروپک اور پینٹاگون کے درمیان خودکار ہتھیاروں اور داخلی نگرانی میں اے آئی کے استعمال سے متعلق پابندیوں میں نرمی پر مذاکرات جاری ہیں۔ اسی تنازع کے باعث تقریباً 200 ملین ڈالر مالیت کے معاہدے میں بھی تعطل پیدا ہو گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار