بالی ووڈ اداکار نوازالدین صدیقی نے حالیہ دنوں ہندی سینما میں تیار ہونے والی جعلی فلموں پر کھل کر تنقید کی ہے، جس سے ایک بار پھر فلمی صنعت اور سچائی کے معیار پر بحث چھڑ گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اساتذہ کو چھٹیوں میں ہالی و بالی ووڈ فلمیں دیکھنے کی ہدایت کرنے والا ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر معطل
نوازالدین صدیقی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کہانی سناتے وقت ایمانداری ضروری ہے اور فلم سازوں کو سماج کو غلط سمت میں لے جانے سے گریز کرنا چاہیے، خاص طور پر جب آج کے ناظرین پردے پر دکھائی جانے والی حقیقت کے پیچھے کی حقیقت سے آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سماج کو غلط سمت میں لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سچ بہت اہم ہے، اور لوگ آج سمجھتے ہیں کہ کس قسم کی فلمیں بنائی جا رہی ہیں، لیکن زیادہ تر لوگ اس پر بات نہیں کرتے۔
جب نوازالدین سے خاص طور پر کہانی پر مبنی سینما کے بڑھتے ہوئے رجحان کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے کہاکہ آج بہت سی فلمیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
اداکار نے مزید کہاکہ یہاں جعلی فلمیں بنائی جا رہی ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے، اصل حقیقت کیا ہے، کون سا جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے اور کس قسم کا بیانیہ قائم کیا جا رہا ہے۔
اگرچہ انہوں نے کسی مخصوص فلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن ان کے بیانات کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد صارفین نے قیاس آرائی شروع کر دی کہ یہ بات کس فلم کی جانب اشارہ کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بالی ووڈ میں گندی فلمیں بنتی ہیں، سلمان خان کا اعتراف
بعض صارفین نے تجویز دی کہ یہ تنقید فلموں جیسے دی کیرالا اسٹوری اور دھرمندر کے لیے ہو سکتی ہے، جن پر ماضی میں کچھ ناظرین نے پروپیگنڈا مبنی ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔














