امریکی میڈیا ریٹنگ کمپنی نیوزگارڈ نے وفاقی تجارتی کمیشن (FTC) اور اس کے چیئرمین اینڈریو فرگوسن کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں کمپنی کا کہنا ہے کہ ادارے کی تحقیقات سیاسی دباؤ کا حصہ ہیں اور اس کے کاروبار کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔ FTC کا الزام ہے کہ نیوزگارڈ نے قدامت پسند میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کی، جبکہ نیوزگارڈ کا مؤقف ہے کہ وہ صرف میڈیا کی صداقت کے جائزے لے رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان متوقع ملاقات کے حوالے سے غیریقینی صورتحال برقرار
نیوزگارڈ 2018 میں کورٹ ٹی وی کے بانی اسٹیون بریل اور سابق جریدے کے پبلشر گورڈن کرووٹز نے قائم کی تھی۔ کمپنی خبروں اور ویب سائٹس کے معیار، سچائی اور اعتماد کو پرکھ کر ریٹنگ دیتی ہے، جو اشتہاری اداروں اور دیگر کمپنیوں کو فیصلہ کرنے میں مدد دیتی ہے کہ کون سے میڈیا ذرائع پر اشتہار دینے یا معلومات تلاش کرنے کے لیے قابل اعتماد ہیں۔
کمپنی نے ایف ٹی سی کے احکامات کے خلاف عدالت میں کیس دائر کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ادارہ غیر متعلقہ مسائل پر طاقت استعمال کر رہا ہے اور کمپنی کو اس کے جائز کام سے روکا جا رہا ہے۔ FTC نے کمپنی سے داخلی دستاویزات، ای میلز اور سبسکرائبر لسٹ طلب کی ہیں، جو نیوزگارڈ کے مطابق مہنگی اور بوجھل ہیں اور سبسکرائبرز کو ہدف بنانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

نیوزگارڈ نے واضح کیا ہے کہ اس کی ریٹنگ سسٹم سیاسی نہیں ہے اور اس کی درجہ بندی میں کبھی کبھار فاکس نیوز نے دیگر لبرل میڈیا سے بہتر اسکور حاصل کیا۔ اس کے باوجود، قدامت پسند نیوز چینلز، خاص طور پر نیوز میکس، کمپنی کے خلاف ہو گئے اور ریپبلکن قانون سازوں سے دباؤ ڈالنے کی اپیل کی۔
کمپنی نے عدالت میں خبردار کیا ہے کہ FTC کی کاروائیاں جاری رہیں گی یہاں تک کہ نیوزگارڈ مجبور ہو کر سر جھکا دے۔ یہ کیس امریکا میں میڈیا کی آزادی، سرکاری مداخلت اور آزاد صحافت کے تحفظ پر ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔














